کولمبو:۔معاشی بحران سے دوچار ملک سری لنکا کی بحریہ نے کہا ہے کہ غیرقانونی طور پر ملک چھوڑنے والے 91 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ نیوز کے مطابق جمعرات کو سری لنکن بحریہ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ شمال مغربی ساحل پر ماہی گیروں کی کشتیوں میں مہاجرین کو لے کر جایا جا رہا تھا۔بیان کے مطابق منگل کو دو آپریشن کیے گئے جن میں ان کشتیوں کو پکڑا کیا گیا ہے۔پندرہ افراد کو مارویلا کی بندرگاہ کے قریب جبکہ 76 کو چیلو کے پانیوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں ایک سے 62 سال کی عمر کے افراد موجود تھے۔نیوی کے ترجمان کیپٹن انڈیکا ڈی سلوا کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران تقریباً 250 افراد کو پکڑا گیا ہے جو کشتیوں کے ذریعے ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔’عام طور پر ہم سال میں پانچ ایسی کشتیوں کو پکڑتے ہیں لیکن گزشتہ 45 دنوں میں تین کشتیوں کو پکڑ چکے ہیں۔ترجمان کے مطابق سمگلز سیاسی اور معاشی بحران کے متعلق لوگوں کو بہکاتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ وہ بیرون ممالک میں اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔خیال رہے کہ دو کروڑ 20 لاکھ کی آبادی والا ملک سری لنکا شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے، حد درجہ مہنگائی کے علاوہ ادویات اور تیل سمیت اشیائے خورد و نوش کی بھی کمی کا سامنا ہے۔گزشتہ کئی سالوں کے دوران سری لنکن شہری معاشی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر غیرقانونی طریقے سے آسٹریلیا جاتے رہے ہیں لیکن چند ماہ میں ان واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شدید اقتصادی بحران سے دوچار ملک سری لنکا کو سنگین ترین ’انسانی ہنگامی صورتحال‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے ترجمان ڑینس لائرکے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ سری لنکا میں بے مثال معاشی بحران ایک سنگین انسانی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں لاکھوں افراد کو پہلے ہی امداد کی ضرورت ہے۔ لائرکے نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے مطابق اس تشویش کو دور کرنے کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔
