بنگلورو:۔کرناٹک میں حج بیت اللہ کو جانے والے عازمین کیلئے ہر سال تمام تر سہولیات کے ساتھ حج کیمپ کااہتمام ہوتا رہاہے،ماضی میں حج کوجانے والے عازمین حج کیمپ کی سہولیات سے مطمئن ہوکرحج کو روانہ ہوتے تھے،لیکن اس سال حج کیمپ میں بدنظمی کی دھجیایاں اڑائی جارہی ہیں،نہ یہاں پینے کا پانی دستیاب ہے اور نہ ہی عازمین کو رہنے کیلئے مناسب کمرے دستیاب ہیں۔جابجا عازمین اپنی بدحالی پرافسوس کررہے ہیں جبکہ کئی خواتین کو حج کیمپ میں اِدھر اُدھر سوتے ہوئے دیکھاگیاہے۔مردحضرات سہولیات حاصل کرنے کیلئے ادھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔سال1996 میں پہلی دفعہ حج کیمپ کاآغازکیاگیاتھا،اُس وقت سے لیکر مسلسل سال2018 تک عازمین حج کو حج کیمپ میں کسی بھی طرح کی پریشانی کاسامنا کرنانہیں پڑتاتھا،لیکن اس دفعہ حج کمیٹی کے اراکین سے لیکر یہاں تعینات افسروں کو تک گھمنڈ کا بھوت سوار ہواہے اور وہ عازمین کے ساتھ نہایت بدتمیزی کے ساتھ پیش آرہے ہیں ۔ بُری طرح سے گندے ٹوائلٹس جس کی صفائی کیلئے بھی انتظامات نہیں ہیں جبکہ دوردراز علاقوں سے آنے والے عازمین کی رہنمائی کیلئے بھی کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔اب تک حج کمیٹی اور یہاں کے رضاکار جو دعائیں لیا کرتے تھے اب اُنہیں بدعائوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ جس وقت حج کمیٹی کی صدارت سابق ریاستی وزیر آرروشن بیگ کی تھی اُس وقت عازمین حج کو ذرا برابربھی پریشانیوں کا سامنا کرنا نہیں پڑتاتھا،لیکن اب حکومت کے ساتھ ساتھ حج کمیٹی کے چیرمین کی نیت بھی بدل گئی ہے۔بدحال عازمین اپنی فریاد لیکرحج بھون کے دفتر پہنچ رہے ہیں مگر وہاں پر اُن کی فریاد سننے کیلئے چیرمین یا ممبران بھی موجودنہیں ہیں ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حج بھون کے کمروں میں جو ٹوائلٹس موجودہیں اُن کا ڈرائینج بھرچکا ہے جس کی وجہ سے عازمین کو بیت الخلاء جانے کیلئے بھی پریشانی ہورہی ہے۔بعض عازمین کا کہناہے کہ اِنہوں نے جمعہ کی نمازتک بغیر غسل کے اداکی ہے۔ممکن ہے کہ اس وقت حج کمیٹی کی نیت میں اخلاص کی کمی ہے،جس کی وجہ سے عازمین کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔
