دہلی:۔کوویڈ 19 سے متعلق آکسیجن ، دوا سمیت دیگر تمام ضروری سامان کی فراہمی کے لیے سماعت پیر کو سپریم کورٹ میں ملتوی کردی گئی ہے۔ آج ٹیکے لگانے سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت ہونی تھی۔ اتوار کی شام مرکز کی جانب سے اس معاملے میں عدالت کے تمام سوالوں کا جواب 218 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں دیا گیا۔ مرکز نے کہاہے کہ اس فیصلے کو عوامی مفادات میں انتظامیہ پر چھوڑ دینا چاہیے،اس میں کسی عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی ویکسی نیشن پالیسی کے دفاع کے بارے میں بات کریں۔ در حقیقت اس سے قبل سماعت کے دوران عدالت نے مرکز سے پوچھا تھا کہ مرکز خود ہی ویکسین کا 100 فیصد کیوں نہیں خرید رہاہے ، جس پر مرکز نے کہاہے کہ اس نے 50 فیصد ویکسین خود خریدنے کی پالیسی بنائی ہے۔اس سے قبل سماعت میں سپریم کورٹ نے ہفتے کے روز مرکز کو حکم دیا تھا کہ دہلی اور کرناٹک کے لیے روزانہ بالترتیب 700 میٹرک ٹن اور 1200 میٹرک ٹن آکسیجن کی فراہمی طے کریں۔لیکن دہلی کویہ فراہم نہیں کی گئی۔ عدالت نے آکسیجن کی کمی کی پریشانی سے نمٹنے کے لیے مرکز کو قومی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا مشورہ دیا۔ اسی کے ساتھ ہی عدالت نے کہاہے کہ حکومت موجودہ مسئلہ کوفوری طور پر حل کرے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی حکومت نے کہاہے کہ اس نے مرکز کے ذریعہ اپنائے گئے فارمولے کی بنیاد پر آکسیجن کی ضرورت کا اندازہ کیا ہے۔
