کنٹراکٹ پر فوج میں بھرتی ؛ کہیں یہ سنگھ پریوار کیلئے راہیں ہموار تو نہیں ؟

سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
شیموگہ ( خصوصی رپورٹ : مدثر احمد ) بھارت سرکار نے فوج میں بھرتی کے لئے نئی اسکیم کا اعلان کیا ہے جس میں نوجوانوں کو چار سال کے لئے فوج میں بھرتی کیا جائیگا پھر انکی صلاحیتوں کی بنیاد پر مستقل نوکری دی جائیگی یا پھر انہیں ہٹا دیا جائیگا۔  اس منصوبے کو اگنی پتھ ریکوریٹمنٹ کا نام دیا گیا ہے ۔ لیکن یہ منصوبہ ملک کی سالمیت کے لئے نقصاندہ ہوسکتاہے اور یہ سوال پیدا ہورہاہے کہ وہ نوجوان کون ہوں گے جس کو بھرتی کریں گے؟ آر ایس ایس یا بی جے پی کے کارکنان ہوں گے؟کیوںکہ اس وقت ملک میں بجرنگ دل اور سنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں کے کارکنان پہلے سے ہی ہتھیاروں کے ساتھ کھیلنے کے عادی ہوچکے ہیں اور اگر اگنی پتھ منصوبے کے تحت نوجوانوںکو چار سالوں کے لئے ریکرویٹ کرکے پھر انہیں رخصت کردیا جاتاہے تو آگے چل کر یہ نوجوان ہتھیار لے کر گھومنے لگیں گے ۔چار سال کی تربیت کے دوران جوانوں کو بندوق چلانا سکھا کر انہیں بعد میں رخصت کردیا جاتاہے توشدت پسند تنظیمیں انکا غلط استعمال کرسکتی ہیں۔ اگر واقعی میں مودی حکومت جوانوں کو روزگار دینا چاہ رہی ہے اور ملک کے افواج میںبھرتی کرنا چاہ رہی ہے تو انہیں 35 سال کی عمر تک فوج میں ہی رکھنا ہوگا کیونکہ اس وقت تک ان میں سمجھداری اور جواب داری آتی ہے ۔سر سری طورپر نظر ڈالی جائے تو حکومت کی نیت میں خرابی ہے، اس کا مقصد روزگار فراہم کرنا نہیں ہے ۔ نوجوانوں کو بھٹکانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر روزگار ہی دینا ہے تو 20 سال تک کا دی جاسکتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا جارہاہے ۔اس وقت مودی حکومت ہندوستانی افواج کے وقار، روایت، ڈسپلن سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ فوجیوں میں ریگولر بھرتی روک کر چار سال کے ٹھیکے پر فوج بھرتی ملک کی سیکورٹی کے لیے اچھا پیغام نہیں۔ چار سال کی ملازمت کے بعد بھرتی ہوئے نوجوانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس کا جواب بھی حکومت کے پاس نہیں ہے ۔ چار سال کے بعد 22 سے 25 سال کی عمر میں بغیر کسی اضافی اہلیت کے یہ نوجوان اپنے مستقبل کی تعمیر کیسے کریں گے؟ کیا یہ صحیح نہیں کہ 15 سال کی سروس کے بعد جب ریگولر فوجی بھی واپس گھر لوٹتا ہے تو اسے بیشتر وقت صرف بینک میں گارڈ یا سیکورٹی گارڈ کی ملازمت ہی مل پاتی ہے؟ تو ایسے میں چار سال کی کانٹریکٹ سروس کے بعد یہ 23 سے 25 سال کا نوجوان کیا کر سکے گا؟ ۔ اس اسکیم سے نوجوانوں کی زندگی سوالیہ بھی بن جائے گی، اور وہ روزی روٹی اور اچھی زندگی کی تلاش میں کہیں کسی غلط راستے کی طرف تو متوجہ ہوسکتے ہیں۔ واضح ہوکہ اس وقت ملک کے مختلف مقامات پر سنگھ پریوار اپنے کارکنوں کو ہتھیار کی ٹرائننگ دے رہاہے اور اسے ملک کی سالمیت کیلئے کی جانے والی تیاری کا نام دے رہا ہے ۔ ممکن ہے کہ کل جب اگنی پتھ منصوبے سے نوجوانوں کا تقررکیا جائے تو وہاں پر بجرنگ دل اور سنگھ پریوار کے کارکنان کو سرکاری پیسوں میں تربیت دے کر بعد میں انہیں واپس اپنی تنظیموں میں لے کر اپنے سنگھی ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لئے استعمال کریں گے ۔ یا یہ بھی ہوسکتاہے کہ یہ لوگ اپنی الگ ہی فوج بنالیں ۔ سوالات بہت ہیں لیکن حکومت کے پاس گمراہ کرنے والے جوابات کے علاوہ کچھ نہیں ۔ ان حالات میں ملک کے دانشور طبقے کو مخالفت کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے۔