ووٹ کیلئے مسلمانوں کو نشانہ نا بنائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

سلائیڈر نیشنل نیوز

لندن: انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہندوستان میں مسلمانوں اور ان کی جائیدادوں کے خلاف حکومت کی جانب سے حالیہ کارروائیوں کا نوٹ لیا ہے۔ ایمنسٹی نے کہا ہے کہ طاقت کا بے جا استعمال، بلاوجہ حراست اور محض احتجاج پر متعلقین کے گھروں پر بلڈوزر چلادینے کی کارروائیاں جمہوریت میں ناقابل قبول ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہندوستان سے اپیل کی ہے کہ مسلم احتجاجیوں پر کینہ پرور کارروائی روکی جائے۔ برسر اقتدار پارٹی ایسی پالیسی کے ذریعہ فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑرہی ہے اور اس کا مقصد اکثریتی برادری میں اپنے ووٹوں کو مضبوط کرنا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو ہندوستان کے مختلف حصوں میں پیغمبر حضرت محمدؐ کی شان میں گستاخی کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج سے پولیس اور حکومتوں نے ظالمانہ انداز میں نمٹا ہے۔ ایمنسٹی کے آکر پٹیل نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ سرکاری حکام مسلمانوں کو چن چن کر کارروائی کررہے ہیں اور ایسے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جنہوں نے امتیاز اور غیر جمہوری عمل کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا بے جا استعمال، غیر قانونی حراست اور بلڈوزر کارروائی بین الاقوامی قانون انسانی حقوق کے تحت ہندوستان کے عہد کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ ایمنسٹی نے محروس احتجاجیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ پٹیل نے کہا کہ گرفتاریاں اور انہدامی کارروائیاں مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے حکومت کے غیر جمہوری اور غیر واجبی اقتدامات کے بڑھتے رجحان کا حصہ ہے۔ گزشتہ ہفتے کے احتجاج میں دو مسلم نوجوان پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوئے۔