شیموگہ: مرکزی حکومت کی طعنہ شاہی اسکیموں سے کانگریس پارٹی کو ڈرانے کیلئے ای ڈی کاغلط استعمال کیا جارہا ہے۔ اس بات کا سنگین الزام ضلع کانگریس کے قائدین نے ضلع کانگریس دفترسے لے کر ضلع ڈپٹی کمشنردفتر تک زبردست احتجاج کرتے ہوئےلگایا ہے۔اس دوران مظاہرین کوڈپٹی کمشنر دفتر کے احاطے میں داخل ہونے سے پہلے ہی پولیس کی طرف سے رکاوٹیں سخت کر دی گئی تھیں۔ جب کانگریس قائدین نے بیریکیڈ کو عبور کرنے کی کوشش کی اور ڈپٹی کمشنر دفتر کا گھیرائو کرنا چاہ تو پو لیس انہیں گرفتار کرکے لے گئی۔ کانگریس کارکنان نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی سی سی صدر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو مرکزی بی جے پی حکومت نے سیاسی دشمنی کی آڑ میںای ڈی کا نوٹس جاری کیا ہے، نہ صرف راہول گاندھی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے بلکہ ان کی گرفتاری کیلئے بھی ای ڈی پردباؤ ڈالاجارہا ہے۔اتنا ہی نہیں کانگریس کے ممبرانِ پارلیمنٹ اور اے آئی سی سی لیڈروں کوہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے احتجاج کرنے کا حق بھی چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ مرکزی ، ریاستی حکومت اور پولیس کارروائی کی مذمت میں ہی آج یہ احتجاج کیا گیاہے۔مزید الزام لگایا کہ دہلی میں پرامن احتجاج کررہے کانگریس کارکنوںکو دبانے کیلئے پولیس کی طاقت کا استعمال کیا گیاہے۔ پارٹی کے سینئراور انتہائی قابل احترام لیڈروں اور ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیاہے۔ اتنا ہی نہیں اے آئی سی سی دفتر کے اندر گھس کر پارٹی قائدین اور کارکنوں کوبے تحاشہ مارا بھی گیا ہے۔ بی جے پی کے اس طعنہ شاہی عمل سے پورے ملک میں غصے کی چنگاری بھڑک اٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جمہوریت مخالف، آئین مخالف پالیسیوں اور نفرت انگیز سیاست کے خلاف کے پی سی سی نے راج بھون چلو کے نام سے ایک ریلی نکالی ہےاورآج سے ہی کانگریس پارٹی نے اس احتجاج کو ملکی سطح پر منعقدکرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے اسباب میں آج یہاں بڑے پیمانے پر کانگریس پارٹی نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے صدر ہند کو یادداشت پیش کی ہے۔اس موقع پرضلع کانگریس صدر ایچ ایس سندریش، سابق ایم ایل اے پرسننا کمار، کلگوڑو رتناکر، انیتا کماری، ایچ سی یوگیش، ایس پی دنیش، اسماعیل خان،سید وحید اڈو، اسٹیلامارٹن، وغیرہ موجودتھے۔
