رمضان المبارک نیکیوں کا مرکز

سلائیڈر مضامین
از:۔عطاء الرحمن القاسمی ،شیموگہ
اللہ تعالیٰ کی کیا ہی عجیب و غریب کرشمہ سازی اور مومنوں کے ساتھ حکمت ِ عملی ہے کہ جوں ہی ہلال ِ رمضان آسمان کے اُفق پر نظر آیا اُسی شب ہی سے ماہ ِ رمضان کا افتتاح دو چیزوں سے کروا دیا ،یہ دونوں چیزیں تمام اعمال ِ خیر اور اعمال ِ برّ (نیک اعمال)کی روح ہیں ،یعنی ایک تلاوت ِ قرآن دوسری نماز ِ تراویح ہے ،یہی دو چیزیں ہیں جس سے مومنوں کو قرب ِ خداوندی اور اللہ تعالیٰ سے وصال (ملاقات)کی لذّت اور دولت میسّر آتی ہے ،نماز ِ تراویح سے تو اللہ تعالیٰ کا انتہائی و قرب حاصل ہوتا ہے یعنی بندئہ مومن اس نماز ِ تراویح سے اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہوجاتا ہے ،چونکہ قرآن اور حدیث میں صراحت کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں سجدہ ہی کو اللہ تعالیٰ سے قربت کا ذریعہ بتایا گیا ہے جو نماز کے ارکان کا اصل مقصود ہے ۔ چنانچہ ارشاد ِ قرآنی ہے ’’وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ‘‘سجدہ کرو اور قریب ہوجائو ۔ارشاد نبوی ؐ ہے کہ اِنَّ اَقْرَبَ مَا یَکُوْنُ اَلْعَبْدُ مِنْ رَّبِہِ وَہُوَ سَاجِدٌ اَوْکَمَا قَالْ یعنی بندہ اپنے رب سے بے انتہاہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو‘‘اور اللہ تعالیٰ کا قرب اتصال ہے یعنی اللہ سے مل جانے کی دلیل ہے ،کیونکہ حدیثِ نبوی ؐ میں صراحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ سجدہ کی حالت میں بندئہ مومن کا سر اللہ کے قدموں میں گِر پڑتا ہے،پس اقربیت یعنی کامل درجہ کی قُربت اور نزدیکی اللہ تعالیٰ سے نماز ِ تراویح کے ذریعہ ملی اور پھر اس کامل قُربت کو مکمل کیا گیا روزانہ تراویح کے چالیس سجدوں سے کیونکہ تراویح کی سب رکعتوں میں چالیس سجدے ہوتے ہیں اور چالیس کے عدد کو کسی چیز کے مکمل کرنے اور با اثر بنانے میں خاص دخل ہے ۔چنانچہ حضرت موسیٰؑ کو جب تورات دینے کا وقت آیا تو چالیس دن کا چِلّا کرا کے غیب کی باتوں کے ساتھ مناسبت اور اُنسیت پیدا کی گئی اور حدیث ِ رسول ؐ کے مطابق قلب سے حکمت کے چشمے پھوٹ نکلے یعنی قلب کی ایک خاص علمی تکمیل کیلئے چالیس دن کا مخلصانہ عمل تجویز فرمایا گیا ،رسول ِ اکرم ؐ کو بھی جب نبوت سے سر فراز فرمایا گیا تو آپ ﷺکی عمر ِ مبارک بھی چالیس برس کی تھی ،رسول ِ اُمّی ؐ جب پچیس سال کی عمر میںشباب و جوانی کی رعنائیوں کے دور میں نکاح کرنے کا ارادہ فرماتے ہیںتو آپ ؐ کا پاکیزہ انتخاب بھی انوکھا ہوتا ہے و ہ مکّہ کے شوخ و بیباک دوشیزائوں اور حسینوں کو ذرا سا بھی خراج ِ نگاہ دینے کے بجائے انتخاب فرماتے ہیں تو ایک پاک باز و پارساچالیس سالہ معمّر خاتون خدیجہ ؓ بنت ِ خُویلد کا جو ایک بیوہ عورت ہیں ، شباب کی دہلیز پار کر چکی ہیں ،حضرت ِ یونس ؑ کو بھی اللہ تعالیٰ نے چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رکھا ،حضرات ِ صوفیائے کرام نے بھی اسی سے چِلّہ کشی کا اُصول اپنایا ،تو اس چالیس کے عدد میں بہت سے راز اور حکمتیں پوشیدہ ہیں اسی لئے رمضان کی تراویح میں بھی ورزانہ چالیس سجدے مسلسل ادا کروائے جاتے ہیں ۔
پھر نماز ِ تراویح میں چالیس سجدوں کو بے اثر اور بے نتیجہ نہیں چھوڑا گیا ،بلکہ اُس کے ساتھ کامل ِ وصال (یعنی اللہ سے ملنے کو )کا راستہ تراویح میں تلاوتِ قرآن سے کیا گیا ،کیونکہ حدیث ِ رسول ؐ میں قرآن کو اللہ کے باطن کی چیز فرمایا گیا ہے ارشاد ِ نبوی ؐ ہے ’’تَبَرَّکْ بِالْقُرْآنْ فَاِنَّہٗ کَلَاْمُ اللّٰہ وَخَرَجَ مِنْہُ اَوْکَمَا قَالْ ‘‘قرآن سے برکت حاصل کرو کیونکہ کے وہ اللہ کا کلام ہے جو اُس کے اندر سے نکل کر آیا ہے ‘‘اس سے یہ بات سامنے کھل کر آگئی کہ قرآن اللہ کے اندر سے نکلی ہوئی چیز ہے جو تلاوت کے ذریعہ ہمارے اندر پہنچ جاتی ہے یعنی اللہ کے باطن سے چلتی ہے اور ہمارے باطن میں پہنچ جاتی ہے ،جس سے اللہ اور بندے کے درمیان باطنی تعلق اور رابطہ پیدا ہوجاتا ہے ۔پھر ایک دوسری حدیث میں تلاوت ِ قرآن کو ’’محادثہ مع اللہ‘‘ یعنی اللہ سے باتیں کرنا بتلایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ بات کرکے متکلّم اور مخاطب اپنا اپنا مافی الضمیر دوسرے تک پہنچا دیتے ہیں ،جسے اللہ تعالیٰ کی علمی قربت ہونے کی انتہائی منزل اور درجہ کہنا چاہئے ۔بس تلاوت ِ قرآن کے ذریعے ہمارا اور اللہ کے باطن کا میل ملاپ اور رابطہ کچھ اس شان سے ہوجاتا ہے کہ اس سے زیادہ اللہ سے ملاپ اور تعلق کی دوسری صورت نہیں ہو سکتی کیونکہ جسمانی میل ملاپ اور تعلق صرف بدن کے مل جانے کی حد تک ہوتا ہے،ایک جسم دوسرے جسم میں سما نہیں سکتا، گو جسمانی ملاپ و تعلق بھی سطحی اور عارضی ہوتا ہے لیکن روحانی ملاپ اور رابطہ بلکہ اُس سے بھی بڑھ کر علمی ملاپ اور رابطہ جو روح کی بھی روح ہے ایک ایسا مکمل تعلق بندہ اور خدا کے مابین ہے کہ جسمانی تعلق و رابطہ بجائے خود ہے،روحانی ملاپ و تعلق بھی اس عملی رابطہ اور تعلق کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔اگر اس ملاپ اور تعلق کو دیکھا جائے تو یہ بھی ایک وسیلہ ہی ہے اصل مقصد اللہ کے نزدیک قبولیت ہے،نہ کے محض تعلق اور رابطہ ،اگر تعلق و رابطہ اللہ کے ساتھ ہو مگر یہ قبول نہ ہو تو ایسا تعلق و رابطہ بیکار و بے سود ہے ،تراویح کی نماز اور اُس میں تلاوت ِ قرآن اور ہر دن چالیس سجدوں کی بارگاہِ خداوندی میں ادائیگی یہ اللہ اور بندئہ مومن کے درمیان تعلق اور رابطہ کا بہت اہم اور مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔
نماز ِ تراویح میں سورئہ فاتحہ:۔ نماز ِ تراویح میں جب کہ سورئہ فاتحہ کی تلاوت ضروری ہے اور ہر رکعت میں ضروری ہے،سورئہ فاتحہ کی ہر ایک آیت پر اللہ کی طرف سے قبولیت کا بر وقت اعتراف و اعلان کیا جاتا ہے چنانچہ بندہ جب الحمد للہ رب العالمین کہتا ہے تو فوراً اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں حَمَدَنِیْ عَبْدِیْ (یعنی میرے بندے نے میری تعریف کی)بندہ کہتا ہے الرحمٰن الرحیم تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِی (میرے بندہ نے میری تعریف و صفت بیان کی)جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںمَجَدَنِیْ عَبْدِی (میرے بندہ نے میری بزرگی بیان کی)پھر جب بندہ کہتا ہے ایاک نعبدہ و ایاک نستعینتو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہَذا بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِی ( یہ میرے اور بندہ کے درمیان کا معاملہ ہے)جب بندہ سوال کرتا ہے اھدنا سے آخر تک پڑھ جاتا ہے تو فوراً اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَلِعَبْدِیْ مَاسَألَ (میرے بندہ کیلئےسب کچھ حاضر ہے جو اُس نے مجھ سے مانگا)تو یہ بروقت اعتراف و اقرار اور بندہ کو اپنا کہ کر اِس بات کو سراہنا ہی قبولیت کی دلیل ہے جس کیلئےبندے اللہ تک پہنچ نے کی تمنا کرتے ہیں ۔
لہٰذا تراویح اور تلاوت میں ابتدائی مرتبہ اللہ سے قریب تر ہوجانے کا ہے جو نماز سے حاصل ہوتا ہے پھر اللہ کے قرب سے اللہ تک پہنچ نے کا مرتبہ ہے جو تلاوت ِ کلام اللہ سے حاصل ہوتا ہے،پھر اللہ تک رسائی ہوجائے تو پھر اللہ کے نزدیک قبولیت اور رضائے خداوندی کا درجہ ہے جو کلام ِ اللہ کی خاص تلاوت کے مکالمہ سے حاصل ہوتا ہے غرض نماز ِ تراویح اورتلاوت ِ قرآن پاک کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ہم نشینی ،معانقہ اور مکالمہ خدا اور بندے کے درمیا ن رضاکی دولت حاصل ہوجاتی ہے ،جس کے بعد بشری و انسانی عروج اور کمال کا کوئی اور مقام نہیں ۔
رمضان کے دنوں میں صیام کا حکم :۔لیکن نظر اس بات کی طرف بھی کیجئے کہ جہاں رمضان کی راتوں میں قیام یعنی نماز ِ تراویح و تلاوت سے اللہ تک رسائی اور قبولیت عنداللہ کی لذّات و انعامات سے بندئہ مومن کو سرفرازی کی دولت سے نواز دیا جاتا ہے وہیں اس مبارک ماہ کے ’’دنوں ‘‘میں نفس ِ انسانی کی ہوسنا کیوں ،نفس پرستیوں اور نفسانی لذّتوں کو بھی پوری قوت وشدت سے ترک کرایا جاتا ہے ،کھانا ،پینا بھی ترک ،مقاربت ِ نسواں بھی بندہ یہاں تک کے ان شہوانی خیالات و تصورات کی لذّتوں سے بھی دور رکھا گیا ہے کیوں ؟و ہ محض اس لئے کے راتوں کی غیر معمولی اللہ تعالیٰ تک رسائی اور قبولیت عنداللہ کی لذّت جو نماز ِ تراویح سے اور تلاوت ِ کلام اللہ کے پڑھنے اور سننے سے ملی تھی و ہ بغیر ان ایام میں کھانا پینا اور قربت و شہوت کے شدّت کے ساتھ چھڑائے اور منع کئے بغیر نا ممکن تھا ،مثلاً اگر کوئی شخص گرمی کی شدّت بھوک و پیاس سے بچنے کے لئے روزہ نہ رکھے مگر پابندی سے نماز ِ تراویح اور تلاوت ِ کلام اللہ کو پابندی سے پڑھتا رہے تو ہر گز ایسے بندئہ مومن کو اللہ کا قرب اور قبولیت کی دولت حاصل نہ ہوگی ،اس کے لئے رمضان کے ایام یعنی دنوں میں کھانا پینا وغیرہ سختی کے ساتھ چھوڑ دینا پڑے گا ۔رمضان کے مہینے میں دن بھر روزہ کے ذریعہ جو حلال چیزوں کو بھی سختی کے ساتھ چھڑوادیا جاتا ہے تو اس سے نفس ِ انسانی کو مانجھا اور صاف کیا جاتا ہے اور رات میں اس صاف شدہ برتن پر تلاوت ِ کلام اللہ اور نماز ِ تراویح کے ذریعے قلعی کی جاتی ہے جس سے نفس ِ انسانی چمک اُٹھتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی قربت و قبولیت اور رسائی حق سے انوار ِ خداوندی بندئہ مومن کی طرف منتقل ہونے لگتے ہیں گویا نفس ِ انسانی میں نفس ِ رحمان نظر آنے لگتا ہے ۔لہٰذا ماہ ِ رمضان جیسے ’’بّر‘‘ یعنی نیکی و سعادت کا مہینہ ہے ویسے ہی’’ تقویٰ‘‘ کا مہینہ ہے۔
ماہ ِ رمضان تقویٰ کا مہینہ:۔قرآن ِ حکیم میں جب رمضان کے روزوں کا ذکر کیا تو رمضان کا سب سے بڑا نتیجہ اور مقصد تقویٰ بتلایا ہے’’ یَآیّہا الذین امانوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم للعلکم تتقون ، ترجمہ :اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے تم سے پچھلوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جائو‘‘جب خود ماہ ِ رمضان کا ذکر کیا گیا جس میں دنوں کے ساتھ راتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے تو نزول ِ قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے رمضان کا سب سے بڑا مقصد و نتیجہ اور حاصل، دلائل کا نور ،ہدایت کا نور اور معرفت کا نورظاہر فرمایا جو حقیقت میں انسانی نفس کی چمک دمک اور قلعی سب سے اعلیٰ اور مستحکم سامان ہے ،فرمایا گیا ’’رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن ِ کریم اُتارا گیا جو انسانوں کیلئے ہدایت کے کھلے دلائل کا مجموعہ اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والاہے‘‘گویا روزہ کا ما حصل ’’تقویٰ ‘‘اور ماہ ِ سیام کا ثمرہ ’’برّ‘‘یعنی نیکی نکلا تو اس طرح قرآن ِ کریم سے ماہ ِ رمضان ’’برّ و تقویٰ‘‘کا مہینہ ثابت ہوا جس سے ’’اثم اور عدوان‘‘کا خاطر خواہ خاتمہ ہوجاتا ہے،یعنی گناہوں اور سرکشی کا دروازہ بند کر دیا جا تا ہے یہاں تک کہ گناہ، سرکشی اور سر مستی کے چشمے سوکھ جاتے ہیں اور نفس ِ انسانی کا دانہ پانی بالکل بندہ ہوجاتا ہے،گناہ ،سرکشی ،طغیانی اور خدا کی نا فرمانی پر اُبھار نے والے شیاطین قید کردئے جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس دانا دشمن کے اسیر ہوجانے پر سرکشی و طغیانی اور گناہ سر زد ہونے کا دروازہ ہی بندہ ہوجانا قدرتی تھا ۔ اس لئے روزہ و تلاوت ،تراویح یعنی صیام و قیام کی آپسی مناسبت اور ایک دوسرے کا رابطہ و تعلق بھی واضح ہوگیا کہ ایک ’’تخلیہ‘‘ کا مقام ہے یعنی روزہ جو انسان کو نفس کی رذالت و ذلّت سے پاک و صاف کرتا ہے دوسرا مقام ’’تحلیہ‘‘ہے یعنی قرآن و تراویح جو نفس ِ انسانی کو چمک دار اور نورانی بناتا ہے اسی کو تحلیہ کہا جاتا ہے۔
صیام و قرآن کی قیامت کے روز شفاعت  :۔قیامت کے دن صیام وقرآن کی شفاعت کو حدیث میں فرمایا گیا ہے  جس کے روای حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ حدیث کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن روزہ وقرآن دونوں مل کر بندۂ مومن کی شفاعت کریں گے۔ روزے کہیں گے کہ یا اللہ ہم نے دن بھر اس بندہ کو کھانے پینے اور شہوانی لذتوں سے محروم کررکھاتھا لہٰذا اس کے حق میں ہماری شفاعت کو قبول فرما، قرآن کہے گا یا اللہ ! میں نے اس بندہ کو راتوں میں نیند اور آرام کر نے سے محروم رکھا لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما، ظاہر ہے کہ ان دونوں کی شفاعت کا انجام سوائے شفاعت کو قبول کرلینے کے دوسرا ہو نہیں سکتاکیونکہ قرآن کلام الہیٰ اور صفت خداوندی ہے ۔ توا س کی شفاعت ایک صفت الہیٰ کی شفاعت ذات سے ہے ، جو ذات سے بالکل جدا نہیں اس لئے یوں کہا جاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت خود ہی اپنی بارگاہ میں شفاعت فرمائیں گے ۔ تو بھلا کون ہے جو اس شفاعت کو رد کرسکے ؟ ادھر روزے کو تمام عبادتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چیز فرمایا ہے کہ ’’میں خود روزہ کا بدلہ دوں گا ‘‘ظاہر بات ہے کہ اپنی چیز کو اپنا کہہ کر کون بے آبرو اور محروم کرسکتا ہے۔ کہ اسے رد کردیا جائے ، بدلہ وجزا نہ دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لئے قیامت کے روز صیام وقرآن کی شفاعتیں یقینی ہیں رد ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ خلاصۂ کلا یہ ہے کہ رمضان المبارک کا سب سے بڑا ثمرہ ونتیجہ تقویٰ ہی ٹھہرا اس لئے یہی تقویٰ کا مادہ پورے سال کی عبادات وطاعات کامادہ ہے۔ جو رنگ بدل بدل کر مختلف عبادتوں میں ظاہر ہوتارہتاہے ۔گویا سال بھر کی مختلف عبادتیں اور ’’ بّروتقویٰ ‘‘ کے مختلف مظاہرے اسی ماہِ رمضان کے صبر واستقامت کا فیض ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمیں رمضانِ کریم کے فیوض وبرکات سے مالا مال فرمائے اور اس کی عبادات وطاعات اور نیکیوں کے مرکز سے پورا پورا استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، قیامت کے د ن ہمیں صیام وقرآن کی شفاعت نصیب فرمائے آمین بجاہ سیدا لمرسلین ورحمۃ للعلمین ونبی الاولین والآخرین ونبی الثقلین ﷺ۔