دہلی:۔بہوجن کرانتی مورچہ کے سربراہ وامن ميشرام کی جانب سے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے25جون کو ایک دن کیلئے بھارت بند کی کال دی ہے۔انہوں نےاس بات کی اپیل کی ہے کہ بھارت کی اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والی طاقتوں کے خلاف 25 جون بروز ہفتہ کو بھارت بند کاانعقادکیاجائیگا۔وامن میشرم نےمرکزی حکومت کے خلاف اپنی برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ملک میں جس طریقے سے گیان واپی کا مدعہ بی جے پی کی طرف سے اٹھایا گیا،متھورا عیدگاہ کا مسئلہ ایودھیا کے بعد اٹھایاگیا،بی جے پی اور آر ایس ایس کے اشارروں پر ہی نوپور شرما نے پیغمبر محمدﷺ) کے بارے میں گستاخی کی ،جس سے وہ چناؤ کی تیاری کیلئے ہندو مسلمان کا پولرائزیشن کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں اور پولرائزیشن کرنے کے لیے انہوں نے نوپر شرما کو اس کام پر لگایا تھا اور نوپور شرما نے پارٹی اور سنگٹھن کے پالیسی کے تحت ہی بیان دیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے نوپورشرماکے خلاف کارروائی کرنے کا ناٹک رچایااور حکومت نے کسی بھی طرح کی کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں کی ، اُسکی وجہ سے کئی جگہوں پر فسادات ہوئے اور تشدد کے حالات پیدا ہوئے اس وجہ سے ملک کی اتحاد اور سالمیت کو خطرہ پیدا ہوا ہے۔گاندھی جی کے طرف سے بھی ہندوؤں کو جوڑنے کے نام پر جس طرح سے آزادی کی تحریک میں پولرائزیشن کا کام گاندھی جی نے کیا اور مذہبی چیزوں کا ہی استعمال گاندھی جی اپنے زندگی میں کرتے رہے تاکہ عام لوگوں کو جوڑا جا سکے تو اس کام کی وجہ سے ہی ہندو مسلمان کا معاملہ کھڑا ہوگیا تھا اور یہی وجہ بھارت بٹوارہ کا وجہ بنا۔آر ایس ایس اور بی جے پی کی طرف سے جس طرح پولرائزیشن کا کام گاندھی جی کے بعد دوبارہ شروع ہوا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر اسی طرح سے مذہبی کرن کا کام پولرائزیشن کا کام ہندو مسلمان کو بانٹنے کا کام لگاتار چلتا رہا تو ملک کی ایکتا اور سالمیت خطرے میں پڑ جائیگی اور وہ دن دورنہیں ہوگا جب دوبارہ ملک کےبٹوارے کا خطرہ پیدا ہو جائیگا،اس لئے ایسے حالات کو رونما ہونے سے روکنا بہت ضروری ہے۔برہمنوں کو بھارت کی اتحاد اور سالمیت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،کیونکہ وہ مولنواسی نہیں ہے (یعنی بھارتی نہیں ہے) بلکہ DNA رپورٹ سےیہ ثابت ہوا ہے کہ وہ ودیشی ہیں۔اس لئے اگر بھارت کے ٹکڑے ہوتے ہیں تواُنہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑیگااور انکا جو راشٹرواد ( قومی پرستی ہے) وہ صرف اور صرف برہمنوں کو بچانے کا پروگرام ہے اور وہ اپنا ودیشی پن چھپانےاور ختم کرنےکیلئے راشٹرواد کا سہارا لے رہے ہیں اور راشٹرواد پر ہندو مسلمان نام کاتڑکا لگا رہے ہیں تاکہ ہندو مسلمان کا پولرائزیشن ہواور اس ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچے۔جس طرح 57 مسلم ممالک کا بیان آیا ہے اُس سے دیش کی ایکتا اتحاد اور سالمیت کے لئے خطرہ اور بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور جو بیان ودیشی ملکوں نے دیا ہے اُسکے لیے آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ ذمےدار ہیں۔اِس لیے دیش کی ایکتا (اتحاد) اور سالمیت کو بچانے کیلئے ملکی سطح پر بڑی سماجی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو لوگ ہندو مسلمان کے نام پر ملک کے اتحاد اور سالمیت کو توڑ نے کی سازش کر رہے ہیں انکے خلاف میں ہم 25 جون 2022 کو بھارت بند کا اعلان کررہے ہیں تاکہ ملک کی سالمیت اور یکجہتی کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکیں۔
