شیموگہ:۔شیموگہ ضلع کے بیشتر نجی اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں دونیشن، سالانہ فیس اور دیگر تعلیمی اشیاء کے نام پر کھلی لوٹ مچارہے ہیں اور تعلیمی عامہ کے اصولوں کو باقاعدہ خلاف ورزی ۔ رواں تعلیمی سال کی کتابیں، نوٹ بک، اسمارٹ کلاس، یونیفارم، شو، ساکس جیسی اشیاء کی فراہمی کے نام پر کمرشیل دکانیں کھول رکھی ہیں ۔ ان باتوں کا الزام ایچ ڈی کے ملناڈ برگیڈ کےصدر این ایم صبغت اللہ نے لگایا ہے۔این ایم صبغت اللہ کی قیادت میں ایک وفدنے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے کہاکہ کورونا وباءکے بعد یہ ہنگامی صورتحال میں والدین اوربچوں پر کافی بوجھ پڑچکا ہے۔اسکے باوجود محکمہ تعلیم عامہ کے افسران اپنی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے محکمہ کے افسران سے گذارش کی ہے کہ وہ خدمات میں کوتاہی برتنے والوں کے خلاف نوٹس جاری کریں اور اضافی ڈونیشن اور دیگر سامان کے کمریشل کاروبار پر لگام کسنے کا کام کریں۔ مزید الزام لگایا کہ محکمہ تعلیم کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے بیشترنجی تعلیمی ادارے من مانے طور پر والدین سے فیس کی وصولی کررہے ہیں یا یوں کہیں کہ یہاں کھلی لوٹ مچی ہوئی ہے۔ ان سے محکمہ تعلیم کے افسران واقف ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ افسران کا یہ سلوک ثابت کررہا ہے کہ انکی خدمات میں کوتاہی ہے۔ ایسے افسران کو محکمہ تعلیم عامہ سے نوٹس جاری کرنا چاہئےاور انکے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر زور دیا گیا۔اسکولوں میں جاری لوٹ پر لگام کسنے کیلئے ایک مخصوص ٹیم کی تشکیل دی جانی چاہئے اور ڈونیشن فیس، اسکول فیس، اسکولوں کی چیزوں اوردیگر اشیاء جس کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں ان پر مکمل طور پر پابندی لگانے پر زور دیا ہے۔
