شیموگہ:۔ دو سال کے دوران ہر گھر کے بجٹ میں 60 تا 80 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ کورونا بحران سے پہلے معیشت تباہ ہوئی کئی لوگ ملازمتوں سے محروم ہوئے لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ نظام معطل رہنے کی وجہ سے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ، مارکٹ میں اشیاء ضروریہ کی عارضی قلت پیدا کرتے ہوئے قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ۔ لاک ڈاؤن کے ختم ہونے اور کورونا سے حالات بحال ہونے کے بعد اضافہ شدہ قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ ہوجانے کا بہانہ کرتے ہوئے دوبارہ قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ اس طرح روس اور یوکرین کی جنگ کا بھی غریب خاندانوں پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے ۔ بالخصوص پکوان میں استعمال ہونے والے خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ تعلیمی اداروں کی کشادگی کے بعد طلبہ کی اسکول فیس میں اضافہ ہوگیا ۔ ساتھ ہی یونیفارم ، کتابیں ، شوز ، اسکول بیاگس ، اسکول ٹرانسپورٹ چارجس میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ۔ ہر سال مکانات کے کرایوں میں 5 تا 10 فیصد کے لحاظ سے اضافہ ہوتا ہے ۔ گھر کرایہ پر لینا ہو تو اڈوانس کی رقم ریادہ ہوتی ہے تو کہیں گھر چھوٹے ہونے کےباوجود گھروں کے کرایہ میں بےتحاشہ اضافہ کردیاگیاہے،جس سے عام آدمی پر مہنگائی کی ایک اور مار پڑرہی ہے۔ گھر کے برقی چارجس میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے گاڑیاں رکھنے والوں پر ماہانہ 2 تا 5 ہزار روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہوگیا ہے ۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے بھی مہنگائی سے محفوظ نہیں ہے ۔سرکاری وغیر سرکاری بسوں کےکرایوں میں اضافہ ہواہے ۔ سرکاری بس پاس کی قیمتوں میں بھی 2 تا 3 گنا اضافہ کردیا گیا ہے ۔غور طلب بات یہ بھی ہے کہ موسم گرما میں ہر سال چکن اور انڈوں کی قیمتوں میں کمی آتی تھی تاہم جاریہ سال سارے موسم گرما میں چکن اور انڈوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہواہے،ساتھ ہی ساتھ ترکاری کی قیمتیں تو آسمان کو چھورہی ہیں ،لیکن ان تمام چیزوں کی مہنگائی کےباوجود ان دو سال کے دوران لوگوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ عام آدمی کی جیب پر ضروربوجھ پڑاہے جس سے کئی لوگ مقروض ہوگئے ہیں اور کئی لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر خودکشی کا راستہ اپنانے پر مجبورہورہے ہیں۔ ۔ چند لوگوں نے اپنے روزمرہ کے اخراجات میں کٹوتی کرلی ہے، کورونا بحران کے بعد عوام کی معاشی صورتحال مستحکم نہیں ہوئی مگر اخراجات میں ضرور اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں فی لیٹر 70 روپئے سے 100 روپئے کے ہند سے کو عبور کرچکی ہیں ۔ پکوان گیس ، دالیں ، نمک ، شکر ،پکوان کا تیل، دودھ کے علاوہ بیشتر اشیاء کی قیمتوں میں 10 تا 70 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ جس سے ہر گھر کے ماہانہ بجٹ میں 8 تا 16 ہزار روپئے کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ اگر بڑے خاندان ہیں تو ان پر مزید مالی بوجھ کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ پہلے 200 روپئے میں ایک ہفتہ کی ترکاری دستیاب ہوجاتی تھی اب ایک ہفتہ کی ترکاری کیلئے 500 روپئے سے زائد خرچ ہورہے ہیں۔
