از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
روزنامہ آج کاانقلاب پچھلے 12 سالوں سے اپنی اشاعت کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ، ہر مشکل اور ہر پریشانی کا سامنا کرتے ہوئے بھی اس اخبار نے اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ اس اخبار کو اخبار رکھنے سے زیادہ ایک تحریک کی شکل دی جس کی وجہ سے کئی معاملات میںسماج ، ملت اور قوم کو فائدہ پہنچا۔ یہ اخبار انسانوں کے ذریعے ، انسانوں کے لئے ، انسانیت کے لئے چلایا جارہاہے باوجود اسکے کئی انسان ایسے بھی ہیں جو ان تمام معاملات کو جانتے ہوئے بھی اخبار کو اب تک اخبار نہیں سمجھ سکے ہیں اور اس اخبار کو بچائے رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئے اس سمت میں فکر نہیں کررہے ہیں ۔ بھارت کے حالات اس وقت کیا ہیں اور کس طرح سے مہنگائی ہر شعبے پر اپنا غلبہ چھوڑ چکی ہے اس سے کوئی ناواقف نہیں ہے ۔ جس طرح سے عام لوگوں کے لئے مہنگا ئی ہے اسی طرح سے اخبار کوبھی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑرہاہے اسی وجہ سے ہم نے پچھلے دنوں اخبار کی قیمت بڑھا کر 100 روپئے کرچکے ہیں جسے 80 فیصد لوگوں نے قبول کرلیا باقی 20 فیصد لوگوں نے اپنی ذہنیت کو ہمارے سامنے رکھا ہے۔ کئی لوگوں نے سوال کیا ہے کہ چار صفحات کے لئے سو روپئے کیوں ؟اگر زیادہ صفحات بڑھاتے تو زیادہ قیمت دی جاسکتی تھی ، جی ہاں یہ مشورہ مفید ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سو روپئے زیادہ منافع کمانے کے لئے نہیں بلکہ نقصان کو کم کرنے کے لئے وصول کئے جارہے ہیں کیو نکہ اخبار کا خرچ ماہانہ چندے سے دو گنا زیادہ ہے جسے اشتہارات کے ذریعے سے کم کیا جاتا ہے لیکن اس وقت ملک کے جو متعصبانہ حالات ہیں اسمیں سرکاری اشتہارات بھی تعصب کی نظر ہوچکے ہیں باقی جو کمرشیل اشتہارات ہیں وہ کم ہوچکے ہیں ۔ دوسرا سوال یہ رکھا گیا ہے کہ دوسرے کنڑااخبارات نے تو قیمت نہیں بڑھائی ہے اور نیشنل اخبارات بھی پہلے کی طرح پرانی قیمتوں میں فروخت کئے جارہے ہیں ۔ یقیناََ وہ پرانی قیمتوں پر ہی اخبار فروخت کررہے ہیں لیکن ہمارے بہت کم قارئین اس بات کو جانتے ہیں کہ آج جو بڑے بڑے اخبارات یا میڈیا ہائوز ہیں انکی پشت پناہی اور پالن بڑے بڑے تاجران کررہے ہیں جیسا کہ ریلائنس ، ادھانی ، وی آر یل جیسی کمپنیاں ہیں اور کئی ایسے اخبارات ہیں جن کی سرپرستی ہندوتوا تنظیمیں کررہی ہیں جن کا مقصد اخبارات کو قائم رکھنا اور اسکے ذریعے سے اپنے ایجنڈوں کو جاری کرنا اور اسکی تشہیر کرنا ہے ۔ لیکن کوئی یہ بتائے کہ مسلمانوں کی کونسی کمپنی نے کونسا میڈیا ہائوز قائم کیاہے اور کونسی جمیعت نے میڈیا ہائوز یا اخبار جاری کیا ہے ۔ اس وقت ملک میں کچھ اخبارات اور یو ٹیوب چینلس چل رہے ہیں تو وہ محدود وسائل کے ساتھ جدو جہد کررہے ہیں جس میں آج کاانقلاب بھی ایک ہے ۔ ہم اخبار کے عوض جس 100 روپئے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ بھیک نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ ساتھ مانگ رہے ہیں جس کے لئے سوسوالات کا جواب دینا پڑرہاہے ۔ ایک اخبار کیلئے ساتھ نہ دینے والی قوم سے یہ کیسی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کل نیوز چینل کے لئے ساتھ دے ، کیونکہ نیوز چینل کے لئےاخبار سے کہیں زیادہ ذرائع ، مدد اور سرمایہ کی ضرورت پڑھتی ہے ۔ ہم آخر میں بس یہی کہنا چاہیں گے سوال 100 روپئے کا نہیں بلکہ سوال میڈیامیں مسلمانوں کی نمائندگی اور میڈیا کو برقرار رکھنے کا ہے ۔ ورنہ :ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا ۔۔میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا ۔۔
