بنگلورو:۔جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا کے صدرمولانا سیدمحمد تنویر ہاشمی نے راجستھان کے شہر اودے پور میں پیش آئے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ واقعہ انسانیت سوز اور اسلامی تعلیمات کے مغائر ہے۔مجرم کو سزا دینے کی اجازت کسی فرد واحد کو نہ اسلام نے دی ہے اور نہ ہی ملک کا قانون اس کی اجازت دیتاہے۔ کسی بھی مجرم کے لیے سزا متعین کرنے کے لیے صرف ملک کے عدلیہ کو اختیار ہے۔ مولانا سید محمدتنویر ہاشمی نے قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی نے جان کے بدلے کے بغیرکسی ایک کو قتل کیا توگویاکہ اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے کسی کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔انہوںنے کہا کہ کسی بھی مذہبی شخصیت کی شان میں گستاخی کرنا ایک سنگین جرم ہے جس کا ارتکاب بدنام زمانہ نوپور شرما نے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں اہانت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کیاہے۔ یہ یقینا مسلمانوں کے لیے بے حد تکلیف دہ امر ہے اور اس قبیح عمل کی پوری دنیا میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ بلاشبہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن ہوہی نہیں سکتا جب تک وہ اپنے آپ سے زیادہ اپنے اہل وعیال سے زیادہ حضور نبی اکرم ﷺسے محبت نہ کرے۔ تعظیم رسول اکرم ﷺ ایمان اور اسلام کی جان اور مسلمان کی پہچان ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں کوئی بدبخت گستاخی وبے ادبی کرے گا تو کوئی بھی مسلمان اہانت رسول اکرم ﷺ کو برداشت نہیں کرسکتا،ہم ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اقلیت کی حیثیت سے رہتے ہیں، یہ ملک ایک دستور، ایک قانون اور عدلیہ کے نظام سے چلتاہے۔ یہاں ملزم اور مجرم کے لیے سزا کا قانونی طریقہ کار متعین ہے جس کی تکمیل کے بغیر کوئی شخص کسی جرم کے ارتکاب مجرم کو سزا دینے کا حق نہیں رکھتا۔اس جمہوری ملک میں اسلام اورپیغمبر اسلام ﷺکے خلاف کوئی بکواس کرے تو ہمیں چاہئے کہ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدام کریں، نہ کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی شخص کوخود مجرم قرار دے کر اسے قتل کردیں۔معلوم ہونا چاہئے کہ پچھلے کئی سالوں سے اسلامیانِ ہند انتہائی کربناک مراحل سے گزر رہے ہیں، نفرتوں کا بازار گرم ہے، مذہب کے نام پر منافرت پھیلائی جارہی ہے، اقلیتوںکو نشانہ بناکر انہیں پریشاں کیا جارہاہے۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ وطنِ عزیز میں برسر اقتدار پارٹی اور اس کے نظریات، حکومتی ادارے اور عدالتوں کے فیصلے ملک کی اقلیتوں کے مغائر ہیں۔ مسلمانوںکو ہراساں کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر ایک چھوٹا پوسٹ بھی کافی ہوتا ہے۔ کیا اسلام دشمن عناصر اودے پور کے اس انسانیت سوز واقعے کو ہوا نہیں دیںگے؟ بلکہ اس واقعے کو منافرت پھیلانے اور اپنے سیاسی مفاد کے لیے بھرپور استعمال کریںگے۔ مولانا تنویر ہاشمی نے مزید فرمایا کہ چند نادانوں کی نادانی سے پوری ملت نہ صرف بدنام ہوتی ہے بلکہ دینِ اسلام کو اغیار نشانہ بناتے ہیں اور اس کا خمیازہ پوری ملتِ اسلامیہ کو بھگتنا پڑتاہے۔ ٹی وی پر ڈبیٹ اور مباحثے کا بدتمیزی کے ساتھ سلسلہ شروع کیاجا تا ہے اوربغیر کسی تردد کے دہشت گردی اور انتہاپسندی کو اسلام سے جوڑدیا جاتا ہے۔ ہم نوجوانانِ ملت سے گذارش کرتے ہیں کہ آپ ملک کے موجودہ حالات کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اکابر علماء کرام اور بزرگوں کی سرپرستی میں اقدام کریں ۔
