بنگلورو:۔اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ووٹ کانگریس سے ہٹنے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے کانگریس پارٹی کےاعلیٰ قائدین نے دہلی میں خصوصی نشست کااہتما م کیاتھا۔مسلمانوں کے ووٹوں کو کانگریس سے جڑے رہنے کیلئے اس نشست میں تبادلہ خیال کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔اس نشست میں کانگریس کےلیڈراور رکن پارلیمان راہل گاندھی ،پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال،کرناٹک کے نگران رندیپ سرجے والا،کےپی سی سی کے صدر ڈی کے شیوکمار، اپوزیشن لیڈرسدارامیانے شرکت کی تھی۔قریب چارگھنٹوں تک ہونے والی اس نشست میں حالیہ سروے کی رپورٹ پر بحث کی گئی جس میں یہ ظاہرہواہے کہ مسلم ووٹ کانگریس سے ہٹتے جارہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20سے30 فیصد مسلمانوں کے ووٹ ایس ڈی پی آئی اور اے آئی ایم آئی ایم کی طرف راغب ہوئے ہیں جبکہ پچھلے انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ کرناٹک کے کورگ اور ساحلی علاقوں تک ہی ایس ڈی پی آئی کی طرف مائل ہوئے تھے۔ایس ڈی پی آئی کو خطرہ بھانپتے ہوئے کانگریس نے فوری طور پر اس تعلق سے خصوصی نشست کا اہتمام کئے جانے کی بات کہی جارہی ہے۔اس وقت ایس ڈی پی آئی ریاستی سطح پر اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کی وجہ سے کانگریس کے ووٹ بینک کو سیدھے طو رپر نقصان پہنچنے کی رائے سامنے آئی ہے ۔ حیدرآباد کرناٹک میں ایم آئی ایم کو بڑے پیمانے پر تائید ملنے کی بات بھی رپورٹ میں ظاہرہوئی ہے ۔ حجاب،حلال اور میلوں میں مسلم تاجروں پر پابندی جیسے مسائل پر کانگریس کی خاموشی سے مسلمان کانگریس سے ناراض ہونے کی بات کہی گئی ہے۔نشست میں واضح کیاگیاکہ ان مسائل پر کانگریس پارٹی کی خاموشی مسلمانوں کو کانگریس پارٹی سے دور کررہی ہے،اس لئے سدارامیانے کانگریسی قائدین کو بتایاکہ وہ مسلمانوں کے مسائل پر بات کرنے کیلئے کھل کر سامنے آئیں اور ان کی انصاف کی لڑائی میں ان کا ساتھ دیں اوراقلیتوں کو یقین دلائیں کہ کانگریس پارٹی ان سے دورنہیں ہوئی ہے،اس کیلئے فوری طور پر لائحہ عمل تیارکیاجائے۔
