احتجاج کے نام پر فرقہ وارانہ تشدد پیدا کرنے بجرنگیوں کی کوشش ناکام:انجمن اسلام

ڈ سٹرکٹ نیوز
بھدراوتی:۔عام انتخابات قریب آرہے ہیں،اس وجہ سےان دنوںبھدراوتی حلقے میں امن وامان کو پامال کرنے کچھ لوگ کوشش کررہے ہیں ۔ بروز اتوا ر یہاں کے رنگپاسرکل میں بجرنگ دل کارکنوں کی طرف سے منعقد احتجاج کے دوران جوہنگامہ آرائی ہوئی ہے اسکے ذمہ دار بھی بجرنگ دل کےشرپسند عناصر ہیں۔مقامی پولیس حقیقت چھپا رہی ہےاوربی جے پی کے ایجنٹ کی طرح کام کررہی ہے۔ اس بات کا الزام انجمن اصلاح المسلمین کمیٹی نےلگایا ہے ۔ اس سلسلے میںکمیٹی کے صدر مرتضیٰ خان اور سابق صدرکی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم برادری تمام مذاہب کے ساتھ ہم آہنگی اوربھائی چارگی سے رہتی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں مسلمانوں پر بلاوجہ مظالم بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ3 جون کورنگاپاسرکل میںبجرنگ دل کارکنوں کی جانب سے منعقدہ احتجاج کے دوران بے وجہ چند بجرنگی ایک کپڑے کی دکان میںگھس گئے اوروہاں کام کر رہے عملےکو حراساں کیا اور حملہ کیا گیاہے۔ اتنا ہی نہیں ان لوگوں نے دکان پر لگے شیشے توڑ دئے اورلاکھوں کا نقصان کیا۔ اسی دن رات میں بسوریشور ٹالکس روڈ پر اقبال نامی شخص کی جوتوں کی دکان کو آگ لگادی۔ ان تمام واقعات کا ثبوت وہاں لگے ہوئے خفیہ کیمرے ہیں۔پولیس نے شروعات میں معاملہ درج کرلیا تھا ، لیکن بعدازاں ملزمین کو چھوڑ دیا ہے۔ کہتے ہوئے غیر اطمینانی ظاہر کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قصوروار حکام کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔مزید الزام لگایا گیا کہ بجرنگ دل کےنام سےکچھ لیڈر دھمکیاں دے رہے ہیںاور وصولی کرنے کیلئے بھی آمدہ ہیں۔اسکا بھی ثبوت سی سی ٹی وی کیمروں میں قید ہے۔ معاشرے میں امن خراب کرنے والے بدمعاشوں کے خلاف اسی وقت کارروائی کرنے کا اصرار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیس سے متعلق 6 لوگ بجرنگ دل کارکنوں کے خلاف شکایت درج کرائی گئی۔ مسلمانوں نےکوئی غلطی نہیں کی ہے۔ احتجاج کے دوران کسی نے بھی کوئی گالی گلوچ نہیں کیا ہے۔ اسکے بعد بھی بلاوجہ جھوٹےالزامات لگائے گئے ہیں۔جھوٹی شکایت درج کروائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی بی کے سنگمیش کے نام کو خراب کرنےکے مقصد سے اور عام انتخابات کے پیش نظر اس حلقے میں تشدد کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے کہتے ہوئے الزام لگایا ۔انہوں نے واضح کیا کہ اس کیس سے متعلق تمام حقیقی رپورٹ ڈپٹی کمشنر اورضلعی ایس پی تک پہنچائی گئی ہے۔ انہوںنے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ سطح پر اسکی تحقیق ہونی چاہئے اور خطاکار چاہئے جو کوئی بھی ہو اسکے خلاف سخت سے سخت اقدامات اٹھانے کی مانگ کی ہے۔ پریس کانفرنس میںسابق صدر پیر شریف، تبریز، آفتاب احمد، اسحاق، گارمینٹس شاپ کے مالک صدام حسین، حملے کا شکار ہونے والے شوکت، اشفاق سمیت دیگر موجودتھے۔