ایودھیا: ایودھیا میں تعمیر ہونے والا رام للا کا عظیم الشان مندر تیزی سے تیار ہو رہا ہے۔ مندر کے گربھ گرہ میں 14 دروازے ہوں گے۔ ان کے دروازوں میں مکرانہ کے سنگ مرمر کا استعمال کیا جا رہاہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کی نقش و نگار کا کام مسلمان کاریگر کر رہے ہیں۔ مندر کے دروازے کے فریم کو رام مندر ورکشاپ میں لایا گیا ہے۔ مندر کی عمارت کے تمام دروازے ان پتھروں سے بنائے جائیں گے۔قابل ذکر ہے کہ رام مندر تحریک کے وقت 1990 سے رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک ورکشاپ بنی تھی۔ یہاں بنسی پہاڑ کے پتھروں کو تراش کر تعمیراتی کاموں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ سال 2024 تک رام مندر مکمل طور پر تیار ہو جائے گا۔ رام للا 2024 تک اپنے مندر میں بیٹھ جائیں گے۔شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا ٹرسٹ رام مندر کی تعمیر کر رہا ہے۔ مندر کی تعمیر کمیٹی کے چیئرمین نپیندر مشرا کی صدارت میں تشکیل دی گئی ایگزیکٹو باڈی کے ارکان وقتاً فوقتاً مندر کی تعمیر کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔معلومات کے مطابق مندر کی تعمیر میں 3.50 سے 4 لاکھ کیوبک میٹر فٹ پتھر لگائے جانے ہیں۔ دروازوں پر سنگ مرمر کے پتھر لگائے جا رہے ہیں۔ یہ سنگ مرمر مکرانہ سے لائے جا رہے ہیں۔ ان پتھروں کی عمر 2000 سال ہے۔ مکرانہ کے پتھروں کی تراش خراش کا کام جس فرم کو دیا گیا ہے وہ ایک مسلم فرم ہے۔اس طرح ایودھیا رام مندر میں ہم آہنگی کی جھلک پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ راجستھان کے مکرانہ کی ایک فرم نے مندر میں استعمال ہونے والے کچھ پتھر تراشے ہیں۔ یہ اب مندر میں نصب کیے جائیں گے۔ رام جنم بھومی میں چبوترے، مقدس مقام سمیت دیوار کو برقرار رکھنے کا کام جاری ہے۔وشو ہندو پریشد کے صوبائی میڈیا انچارج شرد شرما کا دعویٰ ہے کہ مکرانہ، راجستھان میں ایک فرم کو 2007-2010 کے درمیان پتھر تراشنے کا کام دیا گیا تھا جس کے زیادہ تر کاریگر مسلمان تھے۔ رام مندر میں کل 14 دروازے بنائے جانے ہیں۔دوسری طرف لکڑی کے دروانوں کے لئے شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ نے بہرائچ اور گونڈا کے مانکاپور سے شیشم، ساگوان اور ساکھو کی لکڑی کے نمونے حاصل کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مندر کے دروازے اور اطراف سنگ مرمر سے بنائے جائیں گے، رنگین منڈپ اور نرتیہ پویلین میں لکڑی کا استعمال کیا جائے گا۔ان میں سے کچھ کو مسلم کاریگروں نے 2007 سے 10 کے درمیان بنایا تھا جسے ایودھیا میں رکھا گیا ہے۔ ان کا استعمال رام مندر کی تعمیر میں کیا جائے گا۔غور طلب ہے کہ بابری مسجدورام جنم بھومی کی طویل قانونی جنگ کے بعد سپریم کورٹ کے حکم سے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ اس کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور مسلم کاریگروں کے فن کو بھی اس عالیشان عمارت میں جگہ دی جارہی ہے۔
