شیموگہ: نراگندہ اورنوالاگندہ کے 42ویں یوم شہدا کی تقریبات کے پیش نظر 21 جولائی کو دوپہر 12 بجے نوالاگندہ میں کسانوں کی ایک اعلیٰ پیمانے والی نشست کا اہتمام کیا گیا ہے۔اس بات کی اطلاع راجیہ رائترا سنگھااور ہسیروسینا کے صدر ایچ آر بسواراجپا نے کہاہے۔آج رائترا سنگھ کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناراگندہ اورنوالاگندہ کے کسانوں پر پیش آئےوحشیانہ تشدد کو 42 سال مکمل ہوچکے ہیں۔ اسی کے تحت کسانوں کی ایک بڑی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے ذریعے حکومت کےکسان مخالف تین زرعی قوانین کو واپس لینے کااصرار کیا جائیگا ۔ شدید بارشوں اور خشک سالی سے متاثر ہونے والے کسانوں کو معاوضہ دینے، زرعی قرضے معاف کیے جانے۔ کسانوں کی اگائی گئی فصلوں کی مناسب قیمت دینےاور مہادائی کلسا بنڈوری منصوبےکو نافذ کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں کسانوں کی مشکلات اور نقصانات کا جواب نہیں دے رہی ہیں۔ تمام حکومتوں کے خلاف تحریک کے ذریعے کسانوں کے اصرار کے باوجود انہیں نظر انداز کیا گیاہے۔ کسانوں کا مسلسل استحصال ہو رہا ہے۔ بغیرحکم کاشتکاروں کے ساتھ ناانصافی جاری ہے۔ آبپاشی کے منصوبے خستہ حالی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی کرنے والی حکومتوں کے خلاف اگلا قدم کیا ہونا چاہئے اور کسطرح کی جدوجہد شروع کی جائےاس کافیصلہ بھی اس کانفرنس میں لیا جائےگا۔ اب تک 153 کے قریب کسانوں کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔ ملک میں حال ہی میں 10 لاکھ کسان بغیر گولی چلائے مارے جا چکے ہیں۔ کرناٹک میں 40 ہزار سے زیادہ کسان مارے جاچکے ہیں۔ انہوں نے حکومتوں پر الزام لگایا کہ وہ اس قسم کے تجربہ کارقتل کو خودکشی کا نام دے کر اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔مزید بتایا کہ فارمرس لینڈ رایکٹ کسان مخالف ہے۔ اس ایکٹ کی وجہ سے اے پی ایم سی بند ہو رہے ہیں۔ مرکزی حکومت ایم ایس پی دینےکا اعلان توکر رہی ہےلیکن یہ پیداواری لاگت سے بھی کم ہے جو کسانوں کیلئےتوہین ہے۔ اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کا سارا قرضہ معاف کیا جائے، زرعی ایکٹ واپس لیا جائے۔ سوامی ناتھن رپورٹ کو لاگو کیا جائے۔ دودھ کی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔ بغیر حکم کاشتکاروں کو حقوق دیے جائیں۔ کسی بھی وجہ سے بجلی اور بینکوں کی نجکاری نہ کی جائے۔ ان تمام مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے مستقبل کی جدوجہد پر سنجیدگی سے بحث کرنے اور فیصلہ لینے کیلئے نوالاگندہ میں کسانوں کی ایک بڑی کانفرنس بلائی گئی ہے۔ اس کانفرنس میں ضلع کے سینکڑوں کسان شرکت کریں گے۔ کسان رہنمائوں نے بڑی تعدادمیں، خواتین، زرعی کارکنوں ، کسانوں کو کثیر تعداد میں شرکت کی درخواست کی ہے۔پریس کانفرنس میں کسان یونین کے عہدیداران ہٹور راجو، ٹی ایم چندرپا، کے راگھویندرا، ڈی ایچ رامچندرپا، جگدیش، شیومورتی، ردریش، وغیرہ موجودتھے۔
