گیان واپی تنازعہ: مسلم فریق کو جھٹکا،عدالت سماعت کیلئے تیار;  کورٹ کے فیصلے سے مایوس مسلم فریق نے ہائی کورٹ جانے کا کیا اعلان

سلائیڈر نیشنل نیوز
وارنسی:۔ وارانسی کے گیان واپی-سرینگر گوری تنازعہ کی مزید سماعت جاری رہے گی۔ وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ قابل سماعت ہے۔ گیان واپی مسجد کے احاطے میں واقع شرینگر گوری مندر میں پوجا کی اجازت دینے کی عرضی پر 24 اگست کو ہندو اور مسلم فریقوں کے دلائل مکمل ہوئے۔ اس کے بعد وارانسی کے ضلع جج اے کے وشویش نے فیصلہ 12 ستمبر تک محفوظ رکھا تھا۔وارانسی کی عدالت نے  انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی عرضی (آرڈر 7 رول 11 سی پی سی کے تحت دائر کی گئی) کو مسترد کر دیا جس میں گیان واپی مسجد کے احاطے میں عبادت کا حق مانگنے والی پانچ ہندو خواتین (مدعی) کی طرف سے دائر مقدمے کی برقراری کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویشوا نے حکم دیا ہے کہ ہندو عبادت گزاروں کے ذریعہ دائر مقدمہ کو عبادت گاہوں کے قانون یا وقف ایکٹ کے ذریعہ روکا نہیں گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی انجمن اسلامیہ کمیٹی کی جانب سے مقدمے کو برقرار رکھنے کا چیلنج مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب ہندو عبادت گزاروں کے مقدمہ کی مزید سماعت وارانسی کی عدالت کرے گی۔ مدعیوں (ہندو عبادت گزار خواتین ) نے بنیادی طور پر کاشی وشوناتھ مندر کے ساتھ واقع مسجد کمپلیکس کی بیرونی دیوار پر ما شرینگر گوری کی پوجا کرنے کا حق طلب کیا تھا۔اسی مقدمہ کی برقراری کو انجمن کمیٹی (جو وارانسی میں گیان واپی مسجد کی دیکھ بھال کرتی ہے) نے یہ استدلال کرتے ہوئے چیلنج کیا تھا کہ ہندو عبادت گزاروں کے سوٹ کو قانون (عبادت کے مقامات ایکٹ، 1991) کے ذریعے روکا گیا ہے۔فریقین کو طویل عرصے تک سننے کے بعد ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویشا نے گزشتہ ماہ سماعت مکمل کی ، مدعیان نے دعویٰ کیا تھا کہ موجودہ مسجد کا احاطہ کسی زمانے میں ہندو مندر تھا اور اسے مغل حکمران اورنگ زیب نے منہدم کر دیا تھا اور اس کے بعد موجودہ مسجد کا ڈھانچہ وہیں بنایا گیا تھا۔ دوسری طرف انجمن مسجد کمیٹی نے اپنے اعتراض اور آرڈر 7 رول 11 سی پی سی کی درخواست میں دلیل دی ہے کہ اس مقدمے کو خاص طور پر عبادت گاہوں (خصوصی انتظامات) ایکٹ 1991 کے ذریعے روک دیا جانا چاہیے۔عدالت کے فیصلے کے دوران ہندو فریق کے وکلاء ہری شنکر جین اور وشنو شنکر جین عدالت میں موجود تھے۔ تاہم مرکزی درخواست گزار راکھی سنگھ عدالت میں موجود نہیں تھیں۔ کمرہ عدالت میں کل 62 افراد کو حاضر ہونے کی اجازت دی گئی۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 22 ستمبر کو کرنے کا کہا ہے۔ وارانسی کے پولس کمشنر اے ستیش گنیش نے فیصلے سے پہلے کہا تھا کہ شہر کے حساس علاقوں میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ شہر میں ہندو مسلم کی مخلوط آبادی والے علاقے میں پولیس فورس تعینات ہے۔ پولیس نے کل رات سے ہی کچھ علاقوں میں گشت بڑھا دیا تھا تاکہ حکم کے بعد امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو۔فیصلے کے پیش نظر پورے شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ ضلعی عدالت کے احاطے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کو بھی خصوصی نگرانی میں تعینات کیا گیا تھا۔ سروے کے بعد ہندو فریق نے دعویٰ کیا کہ شیولنگ مسجد کے تہہ خانے میں موجود ہے جبکہ مسلم فریق نے اسے چشمہ بتایا تھا۔ہندو فریق کے مطابق 1669 میں اورنگ زیب نے کاشی وشوناتھ مندر کا ایک حصہ توڑ کر گیان واپی مسجد بنائی تھی۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ 14ویں صدی میں جونپور کے شرقی سلطان نے مندر کو گرا کر گیان واپی مسجد بنائی تھی۔کچھ عقائد کے مطابق وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کو اکبر نے 1585 میں نئے مذہب دین الٰہی کے تحت بنایا تھا۔ مسجد اور وشوناتھ مندر کے درمیان 10 فٹ گہرا کنواں ہے جسے گیان واپی کہتے ہیں۔ مسجد کا نام اسی کنویں کے نام پر پڑاہے۔ہندو فریق کے دعوے کے مطابق پران میں کہا گیا ہے کہ بھگوان شیو نے خود یہ کنواں اپنے ترشول سے لنگ ابھیشیک کے لیے بنایا تھا۔ یہیں پر شیو نے اپنی بیوی پاروتی کو گیان عطا کیا تھا، اس لیے اس جگہ کا نام گیان واپی یعنی علم کا کنواں ہے۔مسلم فریق کا ماننا ہے کہ یہ وقف جائیداد ہے۔ جس کا نام شاہی مسجد عالمگیر کے نام ہے۔ مسجد کمیٹی کے جوابی دلائل 22 اگست سے جاری ہیں۔ مسلم فریق نے کہا کہ وقف بورڈ کی تشکیل 1936 میں ہوئی تھی۔ 1944 کے گزٹ میں انکشاف ہوا کہ گیان واپی مسجد کا نام شاہی مسجد عالمگیر ہے۔یہ جائیداد شہنشاہ عالمگیر یعنی اورنگ زیب کی تھی۔ بادشاہ عالمگیر کا نام وقف کے طور پر بھی درج تھا۔ اس طرح یہ مسجد 1669 میں شہنشاہ اورنگزیب کی طرف سے 1400 سال پرانے شرعی قانون کے تحت عطیہ کی گئی جائیداد پر بنائی گئی تھی اور اس کے بعد سے آج تک وہاں نماز ادا کی جا رہی ہے۔
اسی درمیان گیان واپی-شرنگار گوری معاملے پر سیوان ضلع کورٹ سے مایوسی ہاتھ لگنے کے بعد مسلم فریق نے ہائی کورٹ جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ضلع جج وشویش نے جب ہندو فریق کی عرضی کو قابل سماعت قرار دیا، تو مسلم فریق کو بہت حیرانی ہوئی۔ اس معاملے میں مولانا خالد رشید نے کہا کہ ’’بابری مسجد کے فیصلہ کے دوران وَرشپ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے جو باتیں کہی تھیں اس سے یہ لگنے لگا تھا کہ اب ملک میں مندر-مسجد کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس طریقے کے ایشوز سامنے آ رہے ہیں۔‘‘