جب تک ای وی یم ہے ۔۔

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ملک میں بی جے پی کی ناکامیوں کے باوجود بار بار مختلف ریاستوں میں بی جے پی ہی اقتدا ر میں آرہی ہے اور ہر بار یہ الزام لگایا جاتاہے کہ بی جے پی ای وی یم مشینوں کا غلط استعمال کررہی ہے ، کبھی ای وی یم گھوٹالہ سامنے آتاہے تو کبھی ای وی یم مشینوں میں ہیرا پھیری کئے جانے کی بات کہی جاتی ہے لیکن ای وی یم مشینوں کے مکمل خاتمے کے لئے بھارت کی کوئی بھی سیاسی پارٹی مستقل لڑائی لڑنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے اور بہوجن کرانتی مورچہ جیسی جماعتیں جو اس لڑائی کولڑ رہے ہیں اس کا ساتھ دینے کے لئے بھی کوئی تیار نہیں ہے ۔ درحقیقت ای وی یم مشینوں کو دنیا کے تمام ترقی یافتہ اورغیر ترقی یافتہ ممالک ٹھکر اچکے ہیں اور ہر کوئی الیکشن کو قدیم بیلٹ پیپر کے رواج کو اپنایا ہواہے لیکن بھارت ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں آج بھی ای وی یم کو سر آنکھوں پر بٹھایاگیا ہے ۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ای وی یم رہے گا اس وقت تک بر سر اقتدار سیاسی جماعت خصوصََا بی جے پی کو ہٹانا ہی نہیں ہلانا بھی مشکل ہے لیکن اس بات کو سب سیاسی جماعتیں جانتے ہوئے بھی اسکے خلاف کیوں آواز نہیں اٹھا رہے ہیں یہ سب سے بڑا سوال ہے ۔ حالانکہ ای وی یم ٹیکنالوجی کو بھارت میں رائج کرنے والی کانگریس پارٹی ہی تھی جس نے کئی الیکشن اسی ای وی یم کے بل بوتے پر جیت چکی ہے لیکن اب چونکہ سرکاری ملازمین کانگریس کے ماتحت نہیں ہیں اور سنگھ پریوار کے ایجنٹ ہر طرف پھیل چکے ہیں اس لحاظ سے بی جےپی اپنی ضرورت کے مطابق سرکاری ملازمین کو استعمال کرتے ہوئے ای وی یم کو استعمال کررہی ہے ۔ سپریم کورٹ میں بھی اس معاملے کی سنوائی ہورہی ہے لیکن جس رفتار سے یہاں کارروائی ہورہی ہے وہ بالکل کچھوے کی رفتار سے ہے کیونکہ خود سپریم کورٹ بھی نہیں چاہ رہاہے کہ ای وی یم کا خاتمہ ہو اور ملک میں بیلٹ باکس الیکشن کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو۔ غور کیجئے کہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں مختلف معاملات پر ملک گیر تحریکیں چلارہی ہیں اور مسائل کوحل کرنے کے لئے حکومتوں اور عدالتوں پر دبائو ڈال رہی ہیںلیکن جمہوریت کا خاتمہ جن مشینوں سے ہورہاہے اس پر کوئی آواز نہیں اٹھارہے ہیں ۔ ملک میں جب اتنی بڑی سرکاری مشنریاں ، لاکھوں روپیوں کی تنخواہیں لینے والے کروڑوں سرکاری ملازمین ہیں ، وسائل ہیں ، لوگوں کے پاس وقت ہی وقت ہے تو آخر ای وی یم کو برخواست کرنے کے لئے پہل نہیں کی جارہی ہے اور بیلٹ باکس نظام کو دوبارہ رائج کرنے کے لئے کوئی کیوں مطالبہ کررہاہے ۔ بعض اوقات ایسا بھی محسوس کیا جارہاہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اس ای وی یم کے جال میں پھنس چکی ہیں اور آپس میں یہ معاہدے ہوتے ہونگے کہ اس بار تو کامیاب ہو، اگلی بار ہم کامیاب ہونگے ، اس بات اس ریاست میں ہمارا راج ہوگا ، اگلی بار تمہار ا راج ہوگا مثلاََ پنجاب کی ہی بات کرلیں کس طرح سے وہاں عام آدمی اپنی کمزور طاقت کے باوجود جیت کر حکومت اقتدار میں آئی ہے ،جبکہ اسی دوران ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی ملی ہے ، بس ای وی یم کو سامنے رکھ کر ٹام اینڈجیری کا کھیل کھیلا جارہاہے۔ اس وقت اگر واقعی میں بھارت کے جمہوری نظام کو بچانا ہے تو اسکے لئے بھارت سے ای وی یم کو ہٹانا ہوگا ورنہ 2024 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد ان مطالبات کو کرنے کا حق بھی چھین لیا جائیگا۔