ساگر: تعلقہ میں شدید بارش سے 51 کروڑ روپے کا نقصان پیش آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سے بات چیت کرتےہوئے راحت پہنچانے کی کوشش کیا ہوں۔ ان باتوں کا اظہار ضلعی نگران کار وزیر ڈاکٹر نارائن گوڑا نے کیا ہے۔انہوں نے آج ساگر تعلقہ کے مختلف حصوں میں بارش سے ہونے والے نقصانات کا معائنہ اور شہر کو پانی سپلائی کرنے والے باندھ بسوناہولے ڈیام کا معائنہ کرنے کے بعد گیسٹ ہائوس میں منعقدہ عہدیداروں کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۔ موسلا دھار بارش کی وجہ سے تعلقہ میں بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاع حکام نے دی ہے۔ مکمل گھرکھونے والوں کیلئے 5 لاکھ روپئے اور گھروں کے حصوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں3 لاکھ روپئے فنڈ جاری کرنے پرفوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ اگر ضرورت ہو تو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کئیرسنٹر کھولاجائے اور اپنے گھروں سے محروم ہونے والوں میں فوڈ کٹس تقسیم کر کے ان کی مدد کیلئے پہنچنے کا حکم دیا ہے۔سیلابی نقصانات کےتعلق سے معلومات دیتے ہوئے رکن اسمبلی ہرتال ہالپا نےبتایا کہ تعلقہ میں شدید بارش کی وجہ سے 48 مکانات، 11 گودام اور 6 اسکول منہدم ہو گئے ہیں۔ 3 مویشی ہلاک اور 39 سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 51 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کی حکام نے رپورٹ پیش کی ہے۔ مزید چند روز تک بارش کے جاری رہنے کا امکان ہےجس سے مزید نقصان کا خدشہ ہے ۔ بے گھر افراد کو فوری طور پر 5 لاکھ روپے دینے کیلئےضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ حکومت سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری طور پرپہلے مرحلے میں 50 کروڑ روپے جاری کریں ۔اس موقع پرڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سیلوامنی، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ویشالی، سب ڈویژنل آفیسر پلوی ، تحصیلدار ملیش ، تعلقہ پنچایت ای او پشپا کماروغیرہ موجودتھے۔
