احمد آباد:۔ گجرات میں ڈاکٹروں نے نام نہاد ’ گائے کے گوبر کے علاج‘ کے خلاف انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسم پر گائے کے گوبرکاپیسٹ لگانے سے کورونا وائرس سے تحفظ فراہم نہیں ہوگا بلکہ اس میں دیگر قسم کے انفیکشن بھی شامل ہیں جن میںبلیک فنگس) بھی شامل ہیں۔یوپی میں بھی سیاہ فنگس کے کیسزآئے ہیں۔کئی جگہوں پرلوگ گائے کے گوبرلگارہے ہیں جس سے وہ اورانفیکشن پھیلائیں گے۔ ایک گروپ کا یہاں سری سوامی ناارئن گروکول وشوویدیا پرتھیشٹانم (ایس جی وی پی) کے زیر انتظام گئوشالہ میں علاج ہورہا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس سے کوویڈ 19 کے خلاف لڑائی میں کامیابی ملے گی۔ایس جی وی پی افسر نے بتایاہے کہ اس گئوشالہ میں 200 سے زیادہ گائیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے ایک ماہ سے ، ہر اتوار کے روز تقریباََ 15 افراد جسم پر گائے کے گوبر اور گائے کے پیشاب کے لیے یہاں آتے ہیں۔ بعد میں اس کو گائے کے دودھ سے دھویا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ یہ علاج کرنے والوں میں فرنٹ لائن ملازمین اوردوا کی دکانوں پر کام کرنے والے افرادشامل ہیں۔ ڈاکٹر اس کو مئوثرنہیں سمجھتے ہیں۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ، گاندھی نگر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دلیپ مولوانکرنے کہاہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سلوک واقعی لوگوں کی مدد کرے گا۔ ابھی تک ایسی کوئی تحقیق میرے دائرے میں نہیں آئی ہے کہ اس بات کا اشارہ ہے کہ گائے کے گوبر کو جسم پر لگانے سے کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا۔
