عید کی حقیقی مسرت

مضامین
از:۔ عطاء الرحمن القاسمی ،شیموگہ
عید کے چاند کو دیکھے نہ کوئی میرے سوا
اس کے دیدار کو ایک سال گذارا میں نے
۲۹؍ رمضان المبار ک کا آفتاب جوںہی غروب ہوتا ہے ہر شخص کی نگاہیں آسماں کی طرف اُٹھتی ہیں ،ان میں جوان ،بوڑھے ،چھوٹے معصوم بچے اوربچیاں ہر ایک کی حسرت و یاس اورخوشی و مسرت سے بھری نگاہیں آسماں پر جمی رہتی ہیں جس دن عید کا چاند نظر آتا ہے ہر شخص کے چہرے اوربشرے پر خوشیوں ، مسرتوں،شادمانیوں اور فرحتوں کی لہر دوڑ نے لگتی ہے،یعنی یہ ہلال ِ عید آسمان کے اُفق ِ مغرب سے مسرتوں ،خوشیوں ،بشارتوں ،عظمتوں اور نہ جانے کن کن احساسات و جذبات کا ایک روح فزا پیغام لیکر آتا ہے ، ہر ایک کے چہرے پر خوشی اورمسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے اور ہر شخص کی آنکھوں میں فرحت و انبساط کی چمک نمایاں ہونے لگتی ہے اور سارا ماحول کیف و سرور، خوشی و مسرت، رونقوں اور فرحتوں کا دل سے استقبال کرتا ہے ،ہر آن ساری فضاء اور سارا ماحول ہر طرح کی خوشیوں سے لہلہا تا ہوا عجیب و غریب منظر پیش کرتا ہے اور یہ کیفیت آخر کیوں نہ پیداہو؟
مکمل ایک مہینے تک اللہ کے نیک بندوں نے اپنے رحیم وکریم آقاء کے احکامات وہدایات کو حتی المقدور اپنے اوپر لازم کرلیا اور رمضان میں دن کے صیام اور راتوں کے قیام کا خوشی خوشی استقبال کیا رضائے الہٰی کے خاطر نفس ِ امّارہ و شیطان کے خلاف سینہ سپر رہے ،حرام چیزیں تو حرام ہی ہیں ان سے بچنا تو ساری زندگی بلکہ لمحے لمحے کا دائمی معمول ہے مگر رمضان المبار ک میں بطورِ خاص ان سے قریب ہونے کا کوئی تصوّر و خیال نہیں ہوسکتا ،اس ماہ میں کچھ وقت کے لئے اللہ کے نیک بندوں نے اپنی بنیادی ضرورتوں کو بھی بالا ئے طاق ر کھ د یا تھا کہ جن کے بغیر دنیا میں زندہ رہنے کا تصّور ہی نہیں ہوسکتا یعنی کھانا، پینا،جو زندگی کا ایسا حصہ ہے کے اُس کواپنی زندگی سے دور کرنے کا کوئی امکان ہی نہیں ، گرمی کی شدّت اورتپتی ہوئی دھوپ کے با وجود پورے پورے دن کھانے پینے سے یکسر دور رہے،محنت و مشقت سے حاصل کی ہوئی روزی جو سراسر پاک و حلال ہے ،مگر رمضان المبارک کے ایام میں کیا مجال کہ ایک لقمہ بھی حلق میں اُتر جائے،موسم ِ گرما کی سخت ترین گرمی اور دھوپ کی شدّت میں کھیتوں ،کارخانوں،فیکٹریوں ،مارکٹوں اور منڈیوں میں کام سے اور دیگر کاروبار سے فارغ ہوکر پہنچتے ہیں ،گھر میں شیریں اور ٹھنڈا پانی ،میٹھا جوس اور لذیز ترین عصیرا ت و مشروبات سامنے ہیں مگر ایک خدا ترس مومن کی کیا ہمت کہ ایک گھونٹ بھی حلق کے اندر داخل کرلے جب کے گھر کے اندر تنہا ہے کوئی باہر کا فرد دیکھنے والانہیںاگر یہ ان نعمتوں اور غذائوں سے بھر پور فائدہ اُٹھالے تو کوئی شخص اُس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتامگر محض اپنے پروردگار و پالنہار کا حکم مانتے ہوئے اور اُس کی خوشنودی کے خاطر رُکا رہتا ہے اور رمضان کے احترام میںسارا سارا دن کھانے پینے سے مکمل پرہیز کرتا ہے تو ایسے پیارے بندوںکو اللہ تعالیٰ عید کی خوشی نصیب کرتے ہیں گویا ایسے اللہ کے فرما ںبردار بندوں کے لئے اعزاز اور اکرام کا دن ہے،اللہ کے نیک بندے مکمل ایک مہینے تک بھوکے پیاسے رہ کر اور راتوں کو جاگ کر رضائے الہٰی کی تلاش میں حیران و طفشان ،سرگرداں اور کوشاں رہے تو آخری ان فرما ں بردار اور نیکو کار بندوں پر اللہ رب العزت کی جانب سے انعامات و نوازشات ،اکرامات اور اعزازات کی بارش کیوں نہ ہوگی ؟
عید خدا کے حضور شکر یہ کا اظہار:حدیث کے اندرآتا ہے کہ رمضان کی آخری رات میں آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اُمت کے لئے مغفرت اور بخشش کا فیصلہ کیاجاتا ہے ،صحابہ نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا وہی یہ شب ِ قدر ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا نہیں وہ شب قدر تو نہیں لیکن جب عمل کرنے والا اپنا عمل پورا کر دے،تو اس کو پوری اُجرت مل جاتی ہے۔(سند احمد) لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اصل میں عید کی خوشی مسلمانوں کو خدا ئے بے نیاز کی بارگاہ میں فریضہ ٔ شکر بجالانے کیلئے عنایت کی گئی ہے،جس سے اُنہیں ایک مہینےتک روزہ،تراویح،ذکر و تلاوت ،صدقات و خیرات اور دعائے نیم شبی و سحر گاہی کی توفیق بخشی ،عید کا دن اسی لئے مقرر کیاگیا ہے کہ بندے دو رکعت نماز ادا کرکے اپنے رب وپالنہار کے حضور سجدئہ شکر بجا لائیں۔اور اس کے دربار میں یہ پکّا وپختہ عہدکریں کہ یا اللہ تیری توفیق سے ہم نے مکمل ایک ماہ تیرے احکامات کی پابندی کی،صبح صادق سے غروب آفتاب تک بھوک اور پیاس کے شدید احساس کے باوجود اپنے حلق کو ایک قطرئہ آب سے بھی محفوظ رکھا اور تیری رضا و خوشنودی کے خاطر ہر طرح کی راحتوں اور آسائشوں کو قربان کردیا۔اور آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ جس طرح ایک ماہ تک تیری اطاعت وفرماں برداری کی ہم نے مشق کیا ہے سال کے گیارہ مہینے بھی تیری اور تیرے رسول ؐ کی اطاعت وفرماں برداری کرتے ہوئے گذاریں گے۔جس طرح رمضان میں محض تیرے حکم کی بجا آوری اور اظہار غلامی کے خاطر تیری اور تیرے نبی پاک ﷺ کی جانب سے  حلال و طیب اور پاک چیزوں کو بھی ہم نے اپنے اوپر حرام قرار دیدیا تھا اور حلال چیزوں سے بھی رُکے رہے تو بدرجہ ٔ اولیٰ  ہم بقیہ مہینوں میں بلکہ تاحیات تیری طرف سے حرام وناجائز چیزوں سے ضرور اپنے آپ کو دور رکھیں گے،ان کے قریب تک نہیں جائینگے۔حقیقت میں یہی احساس اور فکر رمضان المبارک کے روزوں کی روح اور ان کا اصل مقصد ہے ،اسی احساس کو قرآن حکیم اور حدیث پاک کی زبان میں تقویٰ وبندگی کا نام دیا گیا ہے۔ترجمہ :۔ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیساکہ تم سے پہلے پچھلی اُمتوں پر فرض کئے گئے تھے،تاکہ تمہارے اندر تقویٰ آجائے۔
لیکن ہم تھوڑی دیر کے لئے اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور غور کریں کہ کیا ہم نے رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں احکامات الہٰی کی پابندی کرتے ہوئے گذاریں ہیں؟کیا ہم اس ماہ ِ مبارک میں نیکیوں اور سعادتوں اور تقویٰ و ورع کی دولت سے فیضاب ہوئے؟روزہ رکھنے والوں کی تعداد یقینا کچھ کم نہیں تھی،نمازیوں کی تعد اد دوسرے مہینوں کے بہ نسبت ماہ رمضان میںزیادہ ہی ہوجاتی ہے۔تروایح میں شریک ہونے والوں کی تعداد کچھ کم ہی سہی پھر بھی خداکے بندوں کی ایک بڑی تعداد ذوق و شوق کے ساتھ شریک ہوتی ہے،یہ سب نیکیاں یقینا قابل ِ قدر ہیں۔اللہ تعالیٰ مزیداہتمام کی توفیق بخشے۔آمین۔
رمضان کے بعد بھی بندہ خدا کی فرماں بردار ی کرے:
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہئیے کہ کیا ہم نے کما حقہٗ اپنی زبان کی حفاظت کیا ہے ؟ کیاہم نے اس کوغیبت، جھوٹ اور چغل خوری جیسے مہلک گناہوں سے محفوظ رکھا؟کیا ہم نے اپنی آنکھوں کو کسی غیر محرم پر پڑنے سے بچایا؟ کیا ہم نے اپنی بیٹیوں اور دختران کو بے حیائی سے روکا؟اپنے شوہروں کی غدّاری اور نمک حرامی اور رمضان جیسے مقدس ومحترم ماہ میں شوہروں پر مقدمہ بازی و کمپلینٹ اور بے جاجھوٹ وافتراپر دازی والزام تراشی اور تہمتوںکی آندھیوں سے بازرکھا؟کیا ہم نے اس مقدس ماہ میں ٹی۔وی،اسمارٹ فون،لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر ہونے والے فحش گانوں اور اس کی ہیجان انگیزتصویروں سے اپنے کانوں،آنکھوں اور ہاتھوں کواور اپنے دلوں کو آلودگیوں اور گندگیوں سے بھر تو نہیں لیا؟دن بھر اپنے ربّ کے حکم کے مطابق رزق ِ حلال سے بچتے رہے،لیکن رات کو اپنے پیٹ کو رزق ِ حرام سے محفوظ رکھا؟ہمارا گھر سودی لین دین میں ڈوبا ہوا تو نہیں؟ہمارے مالوں اورہماری خواتین کے زیورات اگر زکوۃٰ واجب ہے،تو کیا ہم اس کی ادائیگی سے سبکدوش ہوگئے؟ہم رمضان میں احکام خداوندی کی تابعدادی کا دم بھرتے رہے،کیا رمضان کے بعد شادیوں اور دوسری تقریبات میں محض نام و نمود اور ریاکاری کے خاطرفضول خرچی میں تو نہیں لگے؟ حقیقت میں ان تمام واہیات اور گناہوں سے ہم محفوظ ہوگئے تو یقینا ہم نے بندگی و عبدیت کی معراج کو حاصل کرلیا۔
عیدکے دن اگر ہمارے دلوں میں یہی جذبات موجود ہیں،اگر ہمارے قلوب پر طاعات و عبادات کی چھاپ موجود ہے،آنکھوں میں معرفت و محبت خداوندی کا نُور ہو یدا ہے،ہمارے دل انسانی ہمدردی اور آپسی پیار ومحبت سے معمورہیں اور آئندہ کی باقی زندگی انہی خطوط پر گذارنے کا عزم ہے تو فی الواقع ہماری عید عید ہے۔اللہ تعالیٰ ہر مومن کو ایسی عید نصیب کرے،آمین یا ربّ العالمین۔
کسی شاعر نے عید کی کیا ہی بہترین عکّا سی کی ہے
چراغ دل کے جلائو کہ عید کا دن ہے
ترانے جھوم کے گائو کہ عید کا دن ہے
غموں کو دل سے بھلائو کہ عید کا دن ہے
خوشی کے بزم سجائو کہ عید کا دن ہے
سب ہی مراد ہو پوری ہر اک سوالی کی
دعا ء کو ہاتھ اُٹھائو کہ عید  کا  دن  ہے
حضور اُس کے کرو اب سلامتی کی دعاء
سرِنماز جھکائو کہ عید کا دن ہے