بنگلورو:۔ سرکاری ملازمین اور سرکاری دفتروں کی جانب سے سرکیولر جاری کرکے کہا گیا تھا کہ سرکاری دفتروںمیں کام کے اوقات میں فوٹو گرافی اور ویڈیوگرافی پر پابندی لگائی گئی ہے ۔ ان احکامات پر عوام کی جانب سے شدید مخالفت اور حکومت پر کڑی تنقید کے نتیجہ میں جاری کردہ حکم امتناع کو ہٹادیا گیا ہے۔ڈی پی اے آر کی جانب سے جمعہ کے دن ویڈیو اورفوٹوگرافی پر پابندی لگادی گئی تھی جس کے نتیجہ میں ریاست بھر میں عوام نے ان احکامات کی کڑی مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ اس سرکیولر کے جاری کئے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی یہ احکامات واپس لے لئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے عوام کی برہمی اور ناراضگی کومحسوس کرتے ہوئے یہ فیصلہ واپس لینے کی ہدایت جاری کر دی۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس حکمنامہ پر سوشیل میڈیا پر شدید برہمی اور نارضگی ظاہر کی جارہی تھی۔ الزامات لگائے جارہے تھے کہ حکومت رشوت خوروں کی حمایت کررہی ہے، 40 فیصد کمیشن کی وصولی کا بھی سرکاری افسروں اور وزراء پر پہلے ہی الزام ہے۔ لوگ یہ بھی کہہ رہے کہ رشوت خوری جاری رکھنے سرکاری افسروں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ ا حکامات فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی پی اے آر سے جاری اس سرکیولر کا انہیں پتہ نہیں تھا۔انہوں نے ہدایت جاری کر دی کہ ایسی کوئی پابندی ریاست کے سرکاری دفتروں میں عائد نہ کی جائے۔ ہماری حکومت پوری ایمانداری سے کام کر رہی ہے۔ ہم کوئی چیز چھپانا نہیں چاہتے۔ چند ایک افسروں نے اپنے دفتروں میں فوٹو و ویڈیو گرافی پر پابندی لگانے کی درخواست کی تھی۔ ان کی یہ درخواست حق بجانب تھی کچھ لوگ دفتروں میں خاتون عملہ کی تصویر یں ہی لیا کرتے تھے لیکن عوام کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ فیصلہ واپس لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر میں اب ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔
