داونگیرے:۔پچھلے دنوں مسلم سماج کے خلاف سازش کے تحت بنگلور جنوب کے رکن پارلیمان تیجسوئی سوریہ ، بمن ہلی رکن اسمبلی ستیش ریڈی ، بسونگڈی رکن اسمبلی روئی سبرامنیا،چک پیٹ رکن اسمبلی گروڈاچار نے مسلم طبقہ کو شک کے دائرے میں لانے کی سازش کے تحت دئے گئے بیان سےہندو مسلم کی پُر امن کو مکدر کرنے کی جو کوشش کی گئی۔ ملک میں کوروناکی وجہ سے بڑھتی ہوئی اموات سے لوگوں میں خوف کا ماحول ادویات کی عدم فراہمی حکومت کی ناکامی تمام سے لوگوں کے ذہنوں کو موڑتے ہوئےہندو مسلمانوں کے درمیان نفرت کا بیج بوکر حکومت کی ناکامی کو چھپانے کی ناکام کوشش کی گئی جس کی وجہ سارے ملک میں مسلمان نہیں بلکہ ہندوؤں کی طرف سے تیجسوئی سوریہ کے اس بیان کی کافی مذمت ہونے لگی ۔ بی بی یم پی وار روم میں ذمہ داری پر مامور دوسوپانچ میں سے صرف 16 مسلم افراد کی لسٹ کا پڑھنا اور یہ کہنا کہ یہاں مدرسہ چلایا جارہا ہے یا حج کمیٹی کی تشکیل دی جارہی ہے اس سے ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کس قدر زہر سے بھرے ہو ہیں یہ الفاظ ایسی گھناونی حرکت کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے لہذا حکومت فوری قانونی کارروائی کرتے ہوئے ذات پات کے نام پر انسانوں کے دلوں میں زہر گھولنے کی کوشش کو ناکام کرتے ہوتے ہوئے ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور دفعہ سیکشن 153A , 34RRW ,120B کے تحت رکن پارلیمان تیجسوئی سوریہ اور ارکان اسمبلی کے خلاف کرناٹک پردیش یوتھ کانگریس جنرل سکریٹری سید خالد احمد نے قانونی کاروائی کا پر زور مطالبہ کیا ۔
