دہلی:۔یہ محاورہ مشہورہے کہ” جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے”۔یہ محاروہ اس وقت بھارت پر غالب آیاہے،جب سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوئی ہے،اس کے بعد سے بھارت کی حکومت اور کانگریس پارٹی نےمظلوم فلسطینیوں کی مددکا اعلان اور تائید کرنے کے بجائے اسرائیلیوں کے ساتھ ہونے کی بات کررہے تھے۔سوشیل میڈیاپر باربار سنگھی سوچ رکھنے والے بھارتی شرپسندوں نےاسرائیل کے ساتھ ہونے کی بات کہی تھی۔لیکن جب اسرائیل نے اپنے حامی ممالک کا شکریہ اداکرتے ہوئے دنیاکے مختلف ممالک کانام لیاتو اس میں سے بھارت کا نام پوری طرح سے غائب ہوگیاتھا،پھرکیا تھاکہ مودی بھگتوں نے چیخنا چلانا شروع کیا کہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں،مگرتب تک دیر ہوچکی تھی۔اسرائیلی سربراہ نتین یاہونے بھارت کو نظراندازکیا۔اس بات کو دیکھ کر بھارتی حکومت کے یونیٹیڈ نیشن میں مستقل سفیر تری مورتی نے ایک بیان جاری کیااور کہاکہ اسرائیل کو اپنی حماقتوں سے باز آنا چاہیے اور بیت المقدس کو آزاد کردینا چاہیے،بیت المقدس لاکھوں بھارتیوں کیلئے عزت کا مقام ہے،حضرت بابا فریدشکر گنج جو بھارتی صوفی ہیں،ان کیلئے بھی مقدس مقام ہے۔بھارتی سفیرنے اسرائیل سے گذارش کی ہے کہ وہ فلسطین میں حالات کو پہلے جیسےپُر امن بنائے اور نہتے فلسطینیوں پر حملے کرنا بند کرے۔اصل میں بھارتی حکومت کا موقف اسرائیل کی جانب سے بھارت کی تائید کو نظراندازکئے جانے کے بعد سامنے آیاہے۔واضح ہوکہ سوشیل میڈیاپر اسرائیلی عوام کی جانب سے بھارتی حکومت اور بھارتی شہریوں کا سخت مذاق اُڑایاجارہاہے۔اسی لئے کہتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔
