نوجوان نسلوں کا کمپیوٹر اور موبائل سے لگائو، انسانی ذومبیس میں تبدیل ہونے کے امکانات!!

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ :۔ پچھلے دو دہائیوں سے دنیا بھر کے حالات کا جائزہ لیں تو انسان پوری طرح سے ٹیکنالوجی کا عادی ہوتا جارہاہے خصوصََا اسمارٹ فون کے آنے کے بعد انسان کے جینے کا طریقہ ہی بدل چکا ہے ۔ پہلے انسان پڑھنے ، لکھنے ، کھیل کود اور محنت کرنے میں اپنا وقت لگاتا تھا لیکن اب یہ تمام حالات بدل چکے ہیں ۔ اب لوگ ہر معاملے میں اسمارٹ فون کے غلام ہوچکے ہیں اور یہی اسمارٹ فون انسانی زندگی کوختم کرنے کے لئے کافی ہے ۔ جی ہاں ہم آج بات کررہے ہیں ان اسمارٹ فونس کی جس کے لوگ غلام ہوتے جارہے ہیں ۔ سمارٹ فونس آنے کے بعد نہ نوجوانوں میں تعلیم کی طرف دلچسپی ہے نہ ہی وہ کھیل کود میں سرگرم ہیں ، جس طرح سے اسمارٹ کلاسس کے نام پر نئی نسل کو کمپیوٹر اور فون کے سامنے بٹھادیا گیا ہے بالکل اسی طرح سے کھیلوں کے معاملے میں بھی نوجوان فون اور کمپیوٹر کے ہی کھلاڑی ہوچکے ہیں ایسا اس لئے نہیں کیاجارہا ہے کہ نوجوانوں کو اسمارٹ ٹکنالوجی کا ایکسپرٹ بنایا جائے بلکہ اس لئے ہورہاہے کہ نوجوانوں کواس قدر ناکارہ کیا جائے کہ ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوجائے ۔ بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ ٹکنالوجی بھی ایک طرح سے یہودی سازش ہے جسے اگر دینی اعتبار سے دیکھا جائے تو دجال کا فتنہ ہے جو آنے والے دجال کی مخالفت میں کمزور نسل کو تیار کرنا ہے اور آسانی سے دجال کو اس دنیا پر راج کرنے کا موقع دینا ہے اور یہی بات دنیاوی اعتبار سے سوچی جائے تو اس وقت دنیا بھر میں تمام حکومتیں نئی نسلوں کو روزگار دینے میں ناکام ہوچکی ہیں اور انکے پاس کوئی ایسا منصوبہ نہیں ہے جس سے نوجوانوں کو مصروف کیا جائے اسی وجہ سے وہ آٹا مہنگا ہونے کے باوجود ڈیٹا سستا کرتے ہوئے نئی نسلوں کو موبائل سے جوڑ رہی ہیں ۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں پر نوجوان نسلیں گھروں سے باہر ہی نہیں نکل رہی ہیں بلکہ وہ کمپیوٹر اور موبائل میں کھوچکے ہیں اور انہیں دنیا میں اس وقت کیا ہورہاہے ، انکا مستقبل کیاہوگا ، صحیح اور غلط کیا ہے اس کا فیصلہ کرنے سے محروم ہوچکے ہیں ۔ ان حالات میں ہر ایک شہری کی یہ ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ نوجوان نسلوں کو موبائل اور کمپیوٹر کی دنیا سے الگ کریں اور انہیں حقیقی دنیا میں جینا سکھائیں ، زندگی کے مسائل سے آگاہ کرائیں اور محنت کش بنائیں تاکہ وہ چلتے پھرتے انسانی ذومبیس نہ بنیں ۔