سونیا گاندھی کی توہین کر کے بھاجپانے ملک کی تاریخ کو داغدار کیا: کانگریس

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔لوک سبھا میں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے غیر مہذب اور توہین آمیز برتاؤ کیا! لیکن کیا اسپیکر اس کی مذمت کریں گے؟ کیا قواعد صرف اپوزیشن کے لیے ہیں؟‘یہ تبصرہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر کیا۔دراصل، آج (جمعرات کو) لوک سبھا کو کارروائی کے ہنگامہ خیز آغاز کے بعد ملتوی کئے جانے کے بعد تمام ارکان پارلیمنٹ ایوان سے باہر جا رہے تھے۔ دریں اثنا حزب اقتدار بالخصوص بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کیخلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ اس پر ایوان سے باہر جاتی ہوئیں کانگریس صدر سونیا گاندھی واپس آئیں اور بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ رما دیوی سے گفتگو کرنے لگیں کہ آخر ان کا نام لے کر ہنگامہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ اسی دوران مرکزی وزیر اور بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ اسمرتی ایرانی بھی وہاں آ گئیں اور انہوں نے کانگریس صدر کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے ہوئے نازیبا تبصرے کئے۔اسمرتی ایرانی کے اسی برتاؤ کو اجاگر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے لوک سبھا اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسمرتی ایرانی کے اس بداخلاقی کا نوٹس لیں۔کانگریس پارٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ نے بھی اس واقعہ پر شیدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اقتدار کے اس برتاؤ کے لئے بی جے پی کو معافی مانگنی چاہئے۔ کانگریس کی رکن پارلیمنٹ گیتا کوڈا، جیوتسنا مہنت اور گورو گگوئی نے لوک سبھا میں پیش آنے والے اس واقعہ کو شرمناک قرار دیا ہے۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ بی جے پی کی نہ صرف خواتین ارکان پارلیمنٹ بلکہ مرد ارکان پارلیمنٹ نے بھی غیر مہذب اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔