ریاست میں قانونی نظم ونسق تباہ ہوچکاہے:کمارسوامی نے کی تنقید

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ریاست کے ساحلی علاقے میں پچھلے دس دنوں میں تین قتل مذہب کے نام پر ہوئے ہیں،ان واقعات سے یہ پتہ چل رہاہے کہ ریاست میں قانونی نظم ونسق(لاء اینڈ آرڈر) پوری طرح سے تباہ ہوچکاہے۔یہ تنقید سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کی ہے۔ انہوں نے سوشیل میڈیاپر اس سلسلے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ بسواراج بومئی کے منگلورومیں رہتے ہوئے ہی تیسرے قتل کی واردات پیش آئی ہے،اگر بسواراج بومئی چاہتے تو اس معاملے کی اطلاع پاتے ہی وہیں پر رُک کر اس بات کا پیغام دے سکتے تھے کہ وہ شرپسندوں کے خلاف کارروائی کروانے کیلئے خودمنگلورومیں موجود ہیں،لیکن وہ جان بوج کر منگلورو سے نکل آئے۔منگلورو اور ساحلی علاقہ،تعلیم وتربیت،بینکنگ،انڈسٹریس اور صنعت کاری کے علاوہ تہذیب وتمدن کا گہوارہ کہلاتاتھا،لیکن اب یہ قاتلوں کا شہر بن چکاہے۔کمارسوامی نے مزیدکہاکہ ساحلی علاقے میں پولیس کو مزید طاقت دیکر کام کرنے کی سہولت دینے کی ضرورت ہے،ہاتھ باندھ کر اُن سے کام نہیں لیاجاسکتا۔وزیراعلیٰ بومئی موجودہ قانون پر عمل کرنے کے بجائے یو پی کے بلڈوزر طرز پر کام کرنے کی بات کررہے ہیں،اس سے واضح ہورہاہے کہ ریاست چلانا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔