پابندیاں روسی معیشت کی جڑیں ہلا رہی ہیں: سروے

نیشنل نیوز
 لندن:۔ژیل یونیورسٹی کے محققین نے کہا ہے کہ مغربی پابندیوں سے روسی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے، بھلے ماسکو ان اثرات کو بہت کم بنا کر پیش کر رہا ہے۔روس پر لگائی گئی پابندیاں اس کی معیشت کو بْری طرح متاثر کر رہی ہیں، حالانکہ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ ان پابندیوں سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ بات امریکا کی ڑیل یونیورسٹی کی طرف سے کی گئی ایک نئی اسٹڈی سے معلوم ہوئی ہے۔اس اسٹڈی کے مرتبین کا کہنا ہے کہ ان کے کام سے ماسکو کے ان دعووں کی قلعی کھلتی ہے کہ اس کی معیشت بدستور مضبوط ہے اور یہ کہ مغربی ممالک اس معاشی جنگ کے سبب زیادہ مصیبت میں مبتلا ہیں۔ژیل یونیورسٹی کے ماہرین نے روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کے بعد سے روسی اقتصادی سرگرمیوں کے ماپنے کے لیے پانچ ماہ کے دوران روس کی بین الاقوامی تجارت اور شپنگ پارٹنرز کے ڈیٹا اور دیگر معلومات کو استعمال کیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ روس کی، ضروری اشیا کے برآمد کنندہ کی حیثیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے اسے یورپ کی بجائے اپنی مرکزی منڈیوں کے لیے بھی ایشیا کی طرف رْخ کرنا پڑا۔اس اسٹڈی کے مطابق روسی درآمدات بھی جنگ کے آغاز کے بعد سے زیادہ تر ختم ہو گئی ہیں اور یہ کہ ضروری ساز وسامان، پرزہ جات اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اس ملک کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔اس اسٹڈی کی ٹیم کے مطابق روس کی داخلی پیداوار مکمل طور پر جمود کا شکار ہو گئی ہے اور اس کے پاس متاثر ہونے والے کاروباروں، مصنوعات اور ماہر افراد کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کی صلاحیت نہیں ہے۔ژیل یونیورسٹی کی طرف سے کرائی جانے والی تحقیق کے مطابق قریب ایک ہزار بین الاقوامی کمپنیوں کے روس چھوڑ دینے سے روس ایسی کمپنیوں سے محروم ہو گیا ہے جو مقامی پیداوار کا 40 فیصد پورا کر رہی تھیں۔رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن بنیادی اقتصادی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے بظاہر نہ پائیدار اور ڈرامائی مالیاتی اقدامات کی کوشش کر رہے ہیں اوریہ کہ روسی حکومت کا بجٹ پہلی مرتبہ خسارے میں چلا گیا ہے۔ کریملن کے مالی معاملات اس سے کہیں زیادہ بْری طرح متاثر ہیں جتنے عام طور پر خیال کیے جاتے ہیں۔