جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے پر قبضہ کیا جا رہا ہے، کیمبرج میں راہل کا بیان

سلائیڈر نیشنل نیوز
لندن: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لندن کی کیمبرج یونیورسٹی میں ایک بار پھر وزیر اعظم مودی اور آر ایس ایس پر نشانہ لگایا ہے۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت کا موازنہ شمالی کوریا کی آمریت سے کیا ہے۔ دریں اثنا، انہوں نے الیکشن کمیشن سے لے کر میڈیا پر بھی حملہ بولا۔ کیمبرج یونیورسٹی میں راہل گاندھی نے کانگریس میں تبدیلی کے بارے میں بھی بات کی اور چین کی توسیع پسندانہ پالیسی سے لے کر یوکرین جنگ تک اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروفیسر شروتی کپیلا کے ساتھ بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی تمام ریاستوں میں بنیادی طور پر دو پارٹیاں ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کئی مسائل پر اظہار خیال کیا۔ مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا شمالی کوریا سے موازنہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ مودی کوریا کے ماڈل کے مطابق سوچتے ہیں جہاں وہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک بڑی آبادی کو تھوڑی سی رقم دے کر وہ اقتدار اور دولت کو چند لوگوں کے کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔راہل گاندھی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ ہندوستان میں نہیں چلے گا۔ اس کے زبردست منفی اثرات ہوں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس اپنے وقت میں بڑے کاروباریوں، کسانوں اور مزدوروں کے درمیان توازن قائم کرنے کا کام کرتی تھی۔آر ایس ایس پر حملہ کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے پر ایک تنظیم نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ راہل نے کہا کہ آئین کے مطابق ہندوستان ایک قوم نہیں ہے بلکہ ریاستوں کا اتحاد ہے اور ریاستوں کے درمیان بات چیت ضروری ہے۔ کانگریس ہندوستان کو ایک مکالمے کے طور پر دیکھتی ہے جب کہ آر ایس ایس کے لیے ہندوستان محض ایک نقشہ ہے۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ہندوستان جب بولتا ہے تو زندہ رہتا ہے اور جب خاموش ہوتا ہے تو بے جان ہو جاتا ہے۔ لیکن آج بھارت کی آواز بننے والے ادارے حملوں کی زد میں ہیں۔ کانگریس میں تبدیلی کو ضروری بتاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اس کے لیے پہلے لاکھوں نوجوانوں کے لیے پارٹی کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ حالانکہ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ پہلے انہیں ایسا کرنا آسان لگتا تھا لیکن اس میں وقت لگتا ہے اور یہ بالکل بھی آسان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ راہل گاندھی نے کہا کہ بھلے ہی کانگریس پچھلے آٹھ سالوں سے اقتدار میں نہ ہو، لیکن وہ ستر سال سے اقتدار میں تھی اور ہندوستان کی ترقی میں کانگریس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی ایسی تبدیلی کے مرحلے سے گزرتی ہے اور کانگریس کو اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی اور اپنے کردار کو نئے انداز میں سمجھنا ہوگا۔ ہندوستان میں قومی پارٹی وہی ہوگی جو سب کو متحد کرے گی۔ کانگریس کے لیے یہ کوئی چیلنج نہیں بلکہ بڑا موقع ہے۔ آر ایس ایس، بی جے پی اور کانگریس کے درمیان نظریاتی اختلاف ہے۔