بلا تفریق مہلوکین کو مالی امداددی جائے:سُنی جمعیۃ العلماء کمیٹی کا مطالبہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ریاست کے ساحلی علاقے میں پچھلے دس دنوں میں ہونے والے سلسلہ وار قتل کی وارداتیں ناقابل قبول ہیں اور یہ ریاست کیلئے بدنما داغ ہیں۔مسعود بلارے،پراوین نٹارے اور سورتکل کے محمد فاضل کی موت ریاست میں قانونی نظم ونسق کی بدحالی کا ثبوت ہے،ایسے میں برسرِ اقتدار بی جے پی کی خاموشی نظم ونسق کو تباہ کرنے کیلئے اہم وجہ ہے۔ریاست کی وزارت داخلہ اور انٹلی جنس محکمہ ساحلی علاقے میں ناکام رہاہے،اس کے علاوہ ہندومسلم منافرت کیلئے ماحول بنایاجارہاہے،متعلقہ قتل کی وارداتوں میں کوئی بھی تنظیم یا سیاسی پارٹی ملوث ہو تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ سُنی جمعیۃ العلماء کمیٹی نے کیاہے۔اس سلسلے میں سُنی جمعیۃ العلماءٰ کمیٹی کی قیادت میں منعقدہ احتجاج میں اس بات کا بھی مطالبہ کیاگیاکہ حکومت مہلوکین کے اہل خانہ کویکساں مالی تعائون پیش کرے،ایسانہ ہوکہ وہ صرف ہندوئوں کو خوش کرنے کیلئے کام کرے۔اس وقت ریاست میں بی جے پی خون کی سیاست کررہی ہے اور اسے ہی وہ اپنی کارگردگی کے طور پر پیش کررہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ جس طرح سے پراوین نٹارے کے اہل خانہ کو مالی امداددی گئی ہے اسی طرح سےمسعود بلارے اور محمد فاضل کے لواحقین کو بھی مالی امداد دی جائے۔سُنی جمعیۃ العلماء کمیٹی نے مزید کہاکہ ہرشاکے قتل کے دوران شیموگہ میں صرف ہرشااور دیگر ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افرادکے نقصان کی بھرپائی کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اُس  دوران مسلمانوں کا بھی نقصان ہواتھا،لیکن مسلمانوں کو کسی بھی طرح کی مالی امدادنہیں دی گئی،اس سے یہ بات واضح ہے کہ حکومت موت کے معاملے میں بھی مذہب کا کھیل کھیل رہی ہے۔سُنی جمعیۃ العلماء کمیٹی نے مزید بتایاکہ 28جولائی کو منگلوروکے سورتکل میں فاضل نامی نوجوان کا قتل ہواہے،اس قتل کے پیچھے بھی سماج دشمن عناصر کا ہاتھ ہے،باوجوداس کے خفیہ ایجنسیاں لاپرواہی اختیارکررہی ہے ۔کرناٹک کے کچھ اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان نے ہندو تنظیموں سے جڑے ہوئے مقتول کارکنوں کے گھر جاکر اُنہیں بڑے پیمانے پر مالی امدادپیش کررہے ہیں جبکہ مقتول مسلم نوجوانوں کو کسی بھی طرح کی مالی مدددینے سے سیدھے طور پر انکارکررہے ہیں ۔ ریاست میں کھلے عام تعصب کیاجارہاہے،عوام کے ٹیکس کے پیسے کو صرف مذہب کی بنیاد پر معاوضے کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔بھارت میں تمام یکساں ہیں،آزادی کے75 سال کی خوشی کے موقع پر یہاں قتل وغارت گری ہی دیکھنے کو مل رہی ہے۔جمعیت نے مطالبہ کیاکہ حکومت فوری طور پر مسلم نوجوانوں کے لواحقین کو بھی مالی امدادپیش کرے۔اس موقع پر سُنی جمعیۃ العلماءٰ کمیٹی کےصدر ستاربیگ،مرکزی سُنی جامع مسجد کے خطیب وامام مفتی عاقل رضا،سکریٹری اعجاز پاشاہ،آفتاب پرویز،دارلقضاء کے مفتی قاضی اشرف قادری،مولانا مبارک حُسین،ایم ڈی ٹی شفیع ،انصراحمد ،ضیاء اللہ کے علاوہ وغیرہ موجودتھے۔