شیموگہ ۔: شیموگہ تعلقہ کی سب سے قدیم اسکولوں میں شمارہونے والی کمسی سرکاری اردو اسکول کا اب الگ ہی رنگ ہے ، قریب 108 سال پرانی اس اسکول کی بنیاد میسور عبدالرحیم مرحوم نے رکھی تھی اور اس اسکول کی پہلی معلمہ بھی انکے ہی گھرانے کی خاتون تھیں جو مرحومہ حبیب النساء کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ اس اسکول کا آغاز کرنے میں دیوان سر مرزا اسماعیل کا اہم کردار بھی رہا ۔ اس وقت کمسی تعلقہ کا صدر مقام تھا۔ علم و ادب کے خزانے سے فیضیاب ہونے والے اس خاندان نے کمسی سمیت شیموگہ میں تعلیم کے لئے جدوجہد کی تھی جس کی وجہ سے اس زمانے میں شیموگہ میں تعلیم عام ہونے لگی تھی ۔ قریب 100 سال گزرنے کے ساتھ ہی اس قدیم کی خستہ حالت ، اساتذہ کی لاپرواہیاں ، اہل قریہ کی تعلیم سے عدم دلچسپی نے اسے بند کرنے کے لئے تمام راستے کھول دئے تھے لیکن اسی وقت میسور عبدالرحیم خاندان کے چشم و چراغ حافظ تصویر احمد نے اسکول کو دوبارہ آباد کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے اور اپنے خاندان کے چند افراد کو ساتھ لے کر کمسی اردو اسکول کو نئی جان بخشی ۔ سال 2017 میں جب وہ اسکو ل انتظامیہ کمیٹی کے صدر کے طورپر فائز ہوئے اس وقت یہاں پر صرف 18 بچے زیر تعلیم تھے اور اسکو ل کی عمارت خستہ ہوچکی تھی ، ان حالات کو دیکھتے ہوئے انہوںنے سب سے پہلے کمسی اور مضافاتی گائوں میں تعلیمی تحریک شروع کی تھی اور طلباء کو سرکاری سہولیات کے علاوہ اپنے طور پر سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اِس وقت کرناٹک حکومت سرکاری اسکول کے طلباء کے لئے بس کی سہولت دینے پر غور کررہی ہے وہیں کمسی سرکاری اسکول میں 5 سال قبل ہی حافظ تصویر احمد نے بچوں کی سہولت کے لئے بس کا انتظام کیاہے ، اسکول کے اخراجات اور بس کی سہولت کے لئےسالانہ پانچ لاکھ روپئے صرف خاص سے ادا کئے جاتے ہیں جو ایک مثال ہے ۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ اسی اسکول میں یل کے جی ۔ یو کے جی کے کلاسس بھی قائم کئے گئے ہیں جہاں سے بچے پرائمری اسکول میں داخلے لیتے ہیں ، اس یل کے جی یو کے جی کے لئے حافظ تصویر احمد اور انکے برادران کی جانب سے تعاون رہاہے ۔اس وقت اسکول میں دس وسیع کمرے ، اسمارٹ کلاس روم ، کھیل کا میدان ہے اور یہاں گائو ں کی آبادی کے مطابق طلباء کی اچھی تعداد ہے ، آنے والے دنوں میں یہاں ہائی اسکول کے قیام کے لئے بھی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ قریب 64 لاکھ روپئے مالیت سے تعمیر کردہ عمارت کے لئے سرکاری فنڈس کے علاوہ ذاتی امداد بھی میسور عبدالرحیم مرحوم کے خاندان نے پیش کی ہے ۔ بھلے ہی بعض لوگ اردو زبان اور اردو اسکولوں سے نفرت کرتے ہیں لیکن گائوں والے اس اسکول کو اب اپنی شان سمجھنے لگے ہیں ۔ حافظ تصویر احمد نے اس موقع پر روزنامہ کو تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہر علاقے میں اہل ثروت لوگ ان اسکولوں کو آباد کرنے آگے آتے ہیں تو نجی اسکولوں سے بہتر تعلیمی ادارے بنائے جاسکتے ہیں جہاں پر ملت کے نونہالوں کو کم خرچ میں بہتر تعلیم دی جاسکتی ہے ۔میں نے اپنی استطاعت کے مطابق کچھ ترقیاتی کام انجام دئے ہیں لیکن حقیقت میں اس کا سہرا میرے دادا میسور عبدالرحیم مرحوم کے سرجاتا ہے جنہوںنے میسور سے آکر اس بنجر زمین پر تعلیم کا چشمہ قائم کیا۔
