بھٹکل:۔پچھلے دنوں ہوئی موسلادھاربارش نے جو تباہی مچائی تھی، اس کا جائزہ لینے کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسوراج بومائی نے آج بدھ کو بھٹکل کا دورہ کیا اور بتایا کہ بھٹکل کے 6 سے 7 کلو میٹر دائرے کے اندر بادل پھٹنے سے جو تباہی مچی ہے، اُس نقصان کی بھرپائی کیلئے فوری طور پر 40 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اتنے سے دائرے کے اندر اتنی زیادہ بارش ہوئی ہے کہ 533 ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، ایسے میں حالات پر قابو پانا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی سروےسے پتہ چلا ہے کہ 30 سے 40 کروڑ روپئے مالیت کا نقصان ہوا ہے۔ اس مناسبت سے ۴۰ کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔بھٹکل تعلقہ کے مُٹھلی میں جہاں پہاڑی چٹان کا ایک حصہ کھسک کر ایک مکان پر گرنے سے جن چار لوگوں کی موت واقع ہوئی تھی، اُس مقام پر پہنچ کروزیراعلیٰ نے گرے ہوئے ملبے اور پہاڑی کا جائزہ لیا اور اُن کے اہل خانہ سے بات چیت کرتے ہوئے چار لوگوں کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے اہل خانہ کو فی کس پانچ لاکھ روپیوں کے حساب سے جملہ 20 لاکھ روپیوں کا چیک پیش کیا۔ اس علاقہ میں مزید کچھ مکانات بھی پہاڑی کے نیچے واقع ہے، اس تعلق سے انہوں نے بتایا کہ اُن لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ابتدائی سروے سے پتہ چلا ہے کہ بھٹکل کے 2175 مکانوں کے اندر پانی جانے سے فریج، واشنگ مشین، فرنیچرس اور دیگر کئی قیمتی سامان خراب ہوگئے ہیں، حکومت ہرممکن مدد کرنے کی کوشش کریگی۔ مزید بتایا کہ بھٹکل میں 275 دکانوں کے اندر پانی جانے سے بھی بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ دکانوں کو نقصان ہونے پر سرکار کی طرف سے مدد دینے کا ایسا کوئی قانون نہیں ہے، مگر سرکار جمعہ کو اس تعلق سے ایک خصوصی میٹنگ طلب کرکے دکانداروں کے نقصان کی بھی بھرپائی کرنے کی ہرممکن کوشش کریگی۔وزیراعلیٰ بومائی نے ضلع اُترکنڑا میں ملٹی اسپیشالٹی اسپتال قائم کرنے کے تعلق سے پوچھے گئے سوال پر بتایا کہ کاروار میں جو ضلعی اسپتال اور میڈیکل کالج ہے، اُس کا دورہ کرکے جائزہ لیں گے اور وہاں سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرینگے، اس کے ساتھ ساتھ ضلع میں ملٹی اسپیشالٹی اسپتال قائم کرنے کے تعلق سے رپورٹ لیکر اگلی کاروائی کی جائیگی۔بھٹکل میں 135 دنوں سے جاری موگیر کمیونٹی کے احتجاج کے تعلق سے پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ ریاستی سرکار کیلئے کام کرنے کی ایک حد مقرر ہے، اور ہمیں دستوری طور پر کام کرنا ہوتا ہے، موگیر کمیونٹی کو شیڈول کاسٹ / شیڈول ٹرائب میں شامل کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے، اس کیلئے ایک کمیٹی ترتیب دی گئی ہے، اُن کی طرف سے رپورٹ موصول ہونے کےبعد ہی موگیر کمیونٹی کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
