اقلیتوں کو جھٹکے پر جھٹکا;شادی بھاگیہ اور شادی محل منصوبہ منسوخ،اقلیتوں کی بھلائی کیلئے پیش کردہ72 نکات میں سے28ہی باقی ہیں

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹکا میں مسلمانوں کےاداروں کو بہتر بنانے کیلئے سدارامیا حکومت کے دوران جو منصوبے رائج کئے گئے تھے اُن میں سے بیشتر منصوبے ریاستی حکومت نے منسوخ کردئیے ہیں،ان میں سے شادی بھاگیہ اور شادی محل منصوبے کیلئے کسی بھی طرح کی مالی تعائون دینے پرحکومت نےروک لگائی ہے۔ودھان پریشدمیں سوال جواب کے دوران سی ایم ابراہیم نے یہ سوال اٹھایاتھاکہ اقلیتوں کی فلاح وبہبودی کیلئے72 نکات کی سفارش کی گئی تھی،ان میں سے صرف28 پر ہی عمل کیاجارہاہے۔تعلیم اور چھوٹے تاجروں کو مالی امداد دینے کا سلسلہ روکاگیاہے،اس پر وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے کہاکہ شادی محل اور شادی بھاگیہ منصوبوں کے علاوہ کسی بھی منصوبے کو نہیں روکا گیا ہے ، گنگاکلیان منصوبے کے تحت کھیتوں میں بورویل نکالنے کیلئے منظوری دی گئی ہے اور ہر بورویل کیلئے 50.1 لاکھ روپئے سے بڑھاکر 2 لاکھ روپئے دئیے جائینگے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اقلیتی طلباء کو مسابقاتی( کامپیٹیٹیو) امتحانات کیلئے تربیت دی جارہی ہے،جس میں طلباء کو ہاسٹل اور طعام کاانتظام بھی کیاگیاہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہاکہ چھوٹے تاجرتو فٹ پاتوں پر تجارت کرتے ہیں اُن کیلئے بھی قرضہ جات دینے کیلئے بھی پہل کی گئی ہے۔طلباء کو اریو منصوبے کے تحت فائدہ پہنچانے کیلئے گذشتہ سال سے زیادہ اس دفعہ رقم زیادہ کی گئی ہے ۔پی ایچ ڈی کرنے والوں کیلئے بھی اسکالرشپ روک دی گئی تھی،اب اُس اسکالرشپ کو دوبارہ جاری کی گئی ہے۔