چامراج پیٹے عیدگاہ میدان تنازعہ ، عیدگاہ کے اطراف امتناعی احکامات جاری

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلور : یہاں کے چامراج پیٹے عیدگاہ میدان کو لے تنازعات بڑھتے ہی جارہے ہیں جسکی وجہ سے انتظامیہ نے عیدگاہ کے اطرف امتناعی احکامات جاری کرتے ہوئے پولیس کی سیکوریٹی بڑھا دی  ہے ۔ یہ عید گاہ میدان جہاں وقت بورڈ کی تحویل میں ہے وہیں ہندو تنظیموںنے اس عید گاہ پر گنیش اتسو اور یوم آزادی کی تقاریبات منعقد کرنے کے لئے تیاری کررکھی ہے ۔ اس تنازعے کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے ایک کے یس آر پی  کی ٹکڑی اور سی اے آر پولیس کو تعینات کیا گیاہے ۔ عید گاہ میں کسی کے آنے پر بھی سختی سے پابندی عائد کی گئی ہے ۔ پہلے ہندو تنظیموںنے اس زمین کو بی بی یم پی کی املاک بتائی تھی لیکن بی بی یم پی نے اسے خارج کرتے ہوئے زمین کو روینیو ڈیپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دیا تھا ۔ وہیں دوسری جانب کرناٹکا وقف بورڈ نے یہ واضح کیاہے کہ یہ عید گاہ وقف املاک ہے اور اسکے دستاویزات وقف بورڈ کے پاس موجود ہیں باوجود اسکے ہندو تنظیمیں اس بات پر اڑی ہوئی ہیں کہ یہاں پر گنیش اتسو منانے کے لئے موقع دیا جائے کیونکہ یہ ریوینیو املاک ہے اورجو عید گاہ بنا ہواہے اسے منہدم کیا جائے ۔ وہیں دوسری جانب آج سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد نے موقع کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ چامراج پیٹ عیدگاہ میں گنیش کا تہوار منانے کیلئے موقع نہیں دیاجائیگا،اس بات کو لیکر ضمیر احمد نے سخت ردِ عمل ظاہرکیاہے۔انہوں نے کہاکہ یوم آزادی،یوم جمہوریہ اور کنڑا راجیہ اتسواکو اس میدان میں منعقد کرنےکا موقع دیاجائیگااور 15 اگست کو اسی میدان میں عوامی نمائندوں ولیڈروں کے ساتھ مل کر پرچم کشائی کی جائیگی۔عیدگاہ میدان میں پہلی دفعہ پرچم کشائی ہوگی اور اس سلسلے کو جاری رکھاجائیگا،ہر سال اس میدان میں طلباء وطالبات اور عوام کو لیکر بڑے پیمانے پر قومی تہواروں کا انعقادکیاجائیگا،البتہ گنیش اتسواجیسے تہواروں کو منعقدکرنے کی گنجائش نہیں ہوگی۔