موسلادھاربارش سے ریاست میں اب تک73افرادہلاک; 7386 افراد ریلیف کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ کرناٹک میں جاری مانسون کے دوران سیلاب اور بارش سے متعلقہ واقعات کی وجہ سے 73 لوگوں کی جانیں گئیں جبکہ 7386 لوگوں نے 75 ریلیف کیمپوں میں پناہ لی ہے۔ وزیر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں 14 اضلاع کے 161 گاؤں شدید بارش اور سیلاب سے  21727 لوگ متاثر ہوئے۔اس بات کی اطلاع ریاستی وزیر برائے ریونیو آر اشوک نے دی ہے ۔انہوں نے ا س تعلق سے تفصیلات دیتے ہوئے کہاکہ یکم جون سے 7 اگست تک تقریباً 73 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں آسمانی بجلی گرنے سے 15، درخت گرنے سے پانچ، مکان گرنے سے 19، دریا میں 24، لینڈ سلائیڈنگ سے 9 اور بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک ہلاکت شامل ہے۔اشوک نے کہا کہ 8197 لوگوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا گیا جن کے لیے  75 ریلیف کیمپ کھولے گئے ہیں جہاں 7386 لوگوں نے پناہ لی ہے ۔ریاست کے مختلف مقامات پراب بھی موسلادھار بارش ہورہی ہے،اس کے علاوہ محکمہ موسمیات نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ اگلے تین دنوں تک مزید بارش ہوگی،جبکہ پچھلے ایک ہفتے سے ہونے والے بارش کی وجہ سے24 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔اگلے تین دنوں تک مزید گیارہ اضلاع میں موسلادھار بار ش ہوگی۔ریاست میں بارش کم ہونے کے باوجود اب بھی کئی علاقوں میں سیلاب کے حالات پیداہوئے ہیں۔منڈیا اور کورگ میںزبردست بارش ہورہی ہے،کے آر ایس ڈیام بھر چکاہے،ایک کیوسیکس سے زیادہ پانی باندھ چھوڑاگیاہےجس کی وجہ سے ندی کے پاس بسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیاہے جبکہ کئی دیہاتوں میں پانی بھر گیاہے۔کاویری ندی میں سیلاب ہونے کی وجہ سے کئی علاقے جہاں پر شمشان گھاٹ موجودہیں،وہاں پر آخری رسومات اداکرنے کیلئے بھی لوگ پریشان ہوچکے ہیں۔شیموگہ،چکمگلورو میں بھی زوردار بارش ہورہی ہے جبکہ ہاسن اوربلگائوی ضلع میں اسکولوں کوتعطیل دی گئی ہے۔اگلے تین دنوں تک ساحلی وملناڈ علاقوں میں شدید بارش ہوگی ،اس کے بعد یہ بارش شمالی ہندکی طرف روانہ ہوجائیگی،جس کے بعدریاست میں بارش تھمنے کے امکانات ہیں۔مزید کہاکہ 666 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ 2949 کو شدید نقصان پہنچا ہے اور 17750 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ وزیر نے کہا کہ 129087 ہیکٹر میں زرعی فصلوں اور 7942 ہیکٹر میں باغبانی کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سال بارش نے 11768 کلومیٹر سڑک، 1152 پل اور کلورٹس، 122 بنیادی صحت مراکز، 2249 آنگن واڑی مراکز اور 95 آبپاشی جھیلوں کو نقصان پہنچایا۔اشوک نے کہا کہ ہم نے ڈپٹی کمشنروں کو امدادی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اضلاع کے پاس ₹ 857 کروڑ کا فنڈ ہے ۔وزیر نے کہا کہ سیلاب سے متعلقہ واقعات میں جان گنوانے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے معاوضے کے طور پر دیئے جاتے ہیں، جس میں نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ سے 4 لاکھ روپے بھی شامل ہیں۔اپنے مکانات مکمل طور پر کھونے والوں کو 5 لاکھ روپے ملیں گے جب کہ شدید اور جزوی طور پر تباہ شدہ مکانات کے لیے حکومت بالترتیب 3 لاکھ اور 50 ہزار روپے معاوضے کے طور پر دیتی ہے۔