بنگلورو:۔کرناٹکا کی سیاست میں اگلے ہفتے اہم تبدیلیاں آنے کے امکانات ہیں،ذرائع کے مطابق کرناٹکا کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کو ہٹانے کیلئے پارٹی ہائی کمان میں تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔پچھلے دنوں سدارامیا کی یوم پیدائش کے موقع پر جمع ہونے والے ہجوم کو دیکھ کر بی جے پی کے خیمے میں ہلچل مچ گئی ہے۔قریب آٹھ سے دس لاکھ افراد کا اجتماع وہ بھی بغیرکسی لالچ کے ایک ساتھ جمع ہونا کرناٹک کی تاریخ میں پہلا موقع بتایاگیاہے،اس کے فوری بعد مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی آمدکے دوران ریاست کے سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا،اسی دوران وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کی پیش رفت ہوئی ہے۔بسوراج بومئی کوہٹاکر جن لوگوں کو وزیر اعلیٰ بنانے کے امکانات ہیں ،جن میں جگدیش شٹر،شوبھا کروندلاجے اوربسوانا گوڈا پاٹل یتنال کے نام سرِ فہرست ہیں ۔جگدیش شٹر کو پہلی فوقیت دی جارہی ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ سدارامیا کے جنم دن کے موقع پر سب سے زیادہ لوگوں کی آمد شمالی کرناٹک ہوئی تھی اور ان میں کئی لنگایت لیڈروں نے لوگوں کو جمع کرنے کیلئے محنت کی تھی،اسی وجہ سے علاقائی اور ذات کی بنیادپر جگدیش شٹرکو وزیر اعلیٰ پھر ایک مرتبہ بنانے کی کوشش چل رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپانے بھی ان کا نام ہی ہائی کمان کے سامنے پیش کیاہے۔اسی طرح سے شوبھا کروندلاجے بھی یڈی یورپاکے قریبی ساتھیوں میں شمار کی جاتی ہیں جبکہ کئی دنوں سے وزیر اعلیٰ بننے کی چاہت رکھنے والے بسوانا گوڈا پاٹل یتنال کا یڈی یورپاکی حریف ٹیم کے ذریعے پیش کیاگیاہے۔
