بندر کے ہاتھ میں ناریل

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک/9986437327
اردو اخبارات بھارت کی آزادی سے لے کر بھارت کے مسلمانوں کی رہنمائی تک اہم رول ادا کرتے رہے ہیں ، جنگ آزادی میں اردو اخبارات نے نمایاں رول ادا کیا تھا جس کی وجہ سے کئی اردو اخبارات کو انگریزی حکومت نے پابندی لگادی تھی لیکن انکے مدیران ہر دوسرے موقع پر نیا اخبار شروع کرتے ہوئے اپنے مشن کو جاری رکھا تھا ، اگر تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو اس بات کااحساس ہوگا کہ اردو اخبارات نے مجاہدین کے لئے طاقت بن کام کیاہے ۔ آزادی کے بعد بھی بھارت کے کئی اردو اخبارات اپنی خدمات کو برقرار رکھتے ہوئے قوم وملت کی نمائندگی کی ہے اور اردو زبان کی بقاء و ترجمانی میں اہم کردار اداکیاہے ۔ اسکی اہم وجہ یہ ہے کہ ان اردو اخبارات کے مدیروں اور مالکوں نے اخبار کو شوق نہیں بلکہ جذبے کے ساتھ قائم کیا تھااور انکا مقصد ان اخبارات کو بے نیام شمشیر یعنی ننگی تلواروں کے طورپر استعمال کرنا تھا جس میں انہیں کافی حد تک کامیابی ملی۔ یہ اور بات ہے کہ کئی اردو اخبارات کے مالکان ان اخباروں کے ذریعے گاڑی بنگلے اور زمینیں تو نہیں خرید پائے البتہ اخبار چلانے کے لئے اپنی گاڑی ، بنگلہ اور زمینیں یہاں تک کہ اپنی بیویوں و مائوں کے زیورات تک فروخت کرڈالے اور اپنے مشن کو جاری رکھ کر مسلمانوں کی ترجمانی کرنے کا کام کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کچھ اخبارات کے دفاتر تو پکّے نہیں ہیں لیکن انکے حوصلے ضرور پکّے ہیں ۔ سیاستدانوں کی چاپلوسی ، امراء و شرفاء کی واہ واہی ، حکومتوں کی تنقید، اداروں اورتنظیموں کی جی حضوری ، علماء و دانشوران کی خوشنودی حاصل کرنے کے بجائے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے اخبارات بہت کم ہیں ، مدیران کی تعداد نہ کہ برابرہے ، مالکان کو مشکل سے تلاش کیاجاسکتاہے ۔ دوسرے اخبارات کے مقابلے میں آج بھی کئی اردو اخبارات بے باکی ، بے خوف اور حقیقت پر مبنی صحافت کررہے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اب بھی کچھ اچھا پڑھنے کو مل رہاہے ۔ ان تمام کے درمیان پچھلے کچھ عرصے سے ملک کے مختلف مقامات پر کارپوریٹ کمپنیوں اور سیاستدانوںنے اپنی ضرورت کے لئے اردو اخبارات کا استعمال کرنا شروع کردیاہے یہاں تک کہ بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی نے بھی اردو اخبارات کا استعمال کرنا شروع کیا ہے ۔ کارپوریٹ کمپنیاں بعض سیاستدانوں کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے اردو اخبارات کی کفالت قبول کرلی ہے تو بعض سیاستدان اپنے اٹھنے بیٹھنے ، اپنی بڑھائی بگھارنے کی خاطر اردو اخبارات کو شروع کیا ہے یا پھر اسکی کفالت قبول کرلی ہے ۔ جب ملک میں یہ آواز اٹھی کہ مسلمانوں کو اپنا میڈیا ہائوز بنانا ہے اور مسلمانوں کی ترجمانی کے لئے میڈیا کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے تو اس میں ملاوٹ شروع ہوگئی ۔ شروع شروع میں اخبارات آئے اور جب تک الیکشن رہا اس وقت تک چلتے ہیں پھر بند ہوجاتے ہیں ۔ جہاں مسلمانوں کو منظم اور بامقصد میڈیا ہائوز کی ضرورت تھی وہی جگہ اب کچھ یوٹیوبرس نے لے لی ہے ۔ ہاتھ میں کیمرہ والا ایک فون ، دوسرے ہاتھ میں مائک کا بوم ، گاڑی پر لکھا ہوا پریس انکی شناخت ہے ۔ چند سیاستدانوں کی چمچہ گری کرنا، کچھ سیاستدانوں کے آگے پیچھے گھومنا ہی انکی صحافت کی نشانی ہوچکی ہے ۔ آج کل اردو کے کئی ایسے یوٹیوب چینل آچکے ہیں جن میں نہ تو کوئی مقصد ہے نہ ہی کوئی منزل ہے ،ادھر ادھر کی خبروں کو کاپی کیا پھر ویڈیو بنا کر ڈال دیا ، اسی کو صحافت کا نام دے دیا ۔دن میں دو تین سیاستدانوں کی خبریں بنالی ، شام میں اپنی پانچ سو ۔ ہزار کی اجرت لے لی اور فخر سے کہہ دیا کہ ہم بھی پریس والے ہیں ۔ کئی بڑے شہروں میں یوٹیوبرس نے ہنگامہ مچا رکھا ہے ۔ گروپس کی شکل میں جاکر بلیک میلنگ کرنا ، انٹرویوز کے نام پر پیسے بٹورنا انکا پیشہ ہوچکاہے ، اس سے انکا کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن نقصان اردو صحافت اور حقیقی صحافیوں کا ہوگا جو ایک ایک خبر کو باریکی سے دیکھ کر ، وقت کے تناظر میں دیکھ کر خبریں کرتے ہیں ۔ صحیح اور غلط کی شناخت کرتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ سب یوٹیوب چینل ایسے ہیں بلکہ بیشتر چینل اپنے حدود کو پار کرچکے ہیں ۔ ہم نے ایسے کئی یوٹیوب صحافیوں کو بھی دیکھا ہے جنہوںنے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی بات تو دور خود اپنا نام صحیح سے نہیں لکھ سکتے ۔ انہیں صحافت کے بنیادی اصول تک نہیں معلوم وہ بھی آج صحافی ، جرنلسٹ کہلوارہے ہیں ۔انکی مثال ایسی ہے جیسے کہ بند ر کے ہاتھ میں ناریل تھمادیا گیا ہو۔ بعض یوٹیوب چینل قوم و ملت کی ترجمانی ، اردو زبان کی ترقی ، عوامی مسائل ، حکومت پر تنقید ، حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنا اور عوام میں بیداری لانے کا کام بھی کررہے ہیں لیکن مگر لوگ ایسے یوٹیوب چینلس کی تائید میں بلکہ چھچھورے ، بھدے ، چاپلوسی اور کھٹے میٹھے باتوں والی خبروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، چھچھوری صحافت کو بدلنا مشکل ہے لیکن عوام اپنی سوچ کو بدل کر اچھی صحافت کے ساتھ آگے بڑھے تو اردو صحافت ، اردو صحافی یا بامقصد صحافت کو بو ل بالاہوگا۔