امام حسین کی شہادت کو عالم اسلام ہمیشہ یاد رکھے گا: تنویر ہاشمی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بیجاپور:۔تاریخی شہر بیجاپور میں عظیم الشان پیمانے پر جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا شاخ ضلع بیجاپور کی جانب سے شہیدِاعظم کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں محبانِ اہلِ بیت نے شرکت کی۔ حافظ محمد رضوان خان صاحب کی تلاوتِ قرآن مجید سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔طلبائِ جامعہ ہاشم پیر اور جناب کوثر بیجاپوری ، ناصر ہاشمی، عبدالغفور جامدار اور مولانا محمد حسین شطاری نے بارگاہِ سرورِکونین صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا۔ مفتی طاہر مصباحی صدر مفتی دار الافتاء امام احمد رضا جامعہ ہاشم پیر اور مولانا سید محمد گیسو دراز حسینی ، مولانا سید اختر پاشا حسینی اور ڈاکٹر سید معراج حسینی ہاشمی نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہداء ِ کربلا کی عظیم قربانیوںپر خطاب فرمایا۔ مہمانِ خصوصی کے طورپر جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکاکے جنرل سکریٹری مفتی محمدعلی قاضی مصباحی نے اپنے خصوصی خطاب میں واقعۂ کربلا کاذکر کرتے ہوئے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کو فقیدُ المثال شہادت قرار دیااور فرمایا کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ظالم وجابر بدکردار وبداخلاق یزید پلید کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے حق اور باطل صحیح اور غلط انصاف وناانصافی ظلم اور رواداری خوش اخلاقی اور بداخلاقی کے درمیان خطِ امتیاز کھینچ کر امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیاکہ کبھی  بھی ظالم وجابر فاسق وفاجر بادشاہوں کے آگے سر نہیں جھکانا چاہئے۔ مزید آپ نے فرمایا کہ امام حسین کی شہادت اور واقعۂ کربلا ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ راضی برضائے مولارہتے ہوئے اپنی زندگی اور بندگی کے خطوط متعین کرتے ہوئے صبر وتحمل حکمت وبردباری کا اظہار کرنا چاہئے۔ مولانا سید محمد تنویر ہاشمی صدر جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا نے اپنی کلیدی اور صدارتی خطاب میں کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں فرمایا کہ ایک سچے مومن کی زندگی وبندگی نماز وقربانی جینا اور مرنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا چاہئے۔ حضور نبی اکرم ﷺکی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کے لیے گزرا ہے۔ عین حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ پاک کا آئینہ دار کردار امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بچپن سے لے کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے تک قیامِ مدینہ سے لے کر کربلاکے میدان تک زندگی کے ہرمرحلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کو پیشِ نظر رکھا۔ ۶۰ھ کے ناگفتہ بہ حالات امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیحدپریشاں کررہے تھے۔ شریعتِ اسلامیہ میں یزید کی ناپاک مداخلت کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ میں تحریف کی ناپاک کوشش اور عالم اسلام کی بیچینی وبے قراری امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیحد مضمحل کر رہی تھی۔اُدھر یزید پلید نے اپنے ناپاک ہاتھوں پر بیعت کاآپ سے پرزور مطالبہ کرتارہا۔ انکارِ بیعت پر آپ کواپنی اور اپنے خاندان والوں کی اور محبانِ اہلِ بیت قربانی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نذر کرنی پڑی۔امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کربلا کے میدان میں صبر ورضا کے پیکر بن کر یزید اور یزیدیت کے خلاف علمِ جہاد بلندکرتے ہوئے عالمِ اسلام کو یہ پیغام دیا کہ ظلم اور بربریت کے خلاف استقامت کے ساتھ کھڑاہونا چاہئے اور جب کبھی بھی احکامِ شریعت میں مداخلت ہو اوراپنی اور اپنی اولاد کی قربانی دینے کی ضرورت پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ اپنی جان اپنا مال اپنا سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کی رضا قربان کرنے کا عظیم جذبہ پیدا کرنا چاہئے۔ مولانا تنویر ہاشمی نے مزید فرمایا کہ دورِ حاضر کے فتنوں کے سدِّباب کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملتِ اسلامیہ کا ہر فرد واقعۂ کربلا اور تاریخ کربلا ومقصدِ شہادت حسین سے روشناس ہو ۔ نیز نوجوانانِ ملتِ اسلامیہ کردارِ امامِ حسین کواپنائیں اور اپنی زندگی وبندگی کے خطوط اہلِ بیتِ رسول اللہ ﷺ کی سیرت وتعلیمات کی روشنی میں متعین کریں ۔ اس تاریخ ساز شہید اعظم کانفرنس میں ہزاروں کی تعداد خواتین اسلام نے شرکت کی۔ محترم المقام پروفیسرحضرت سید شاہ معین الدین حسینی ہاشمی نے صدارت فرمائی اور کثیر تعداد میں مشائخ عظام وعلماء کرام وائمہ مساجد نے شرکت کی۔ بڑے اہتمام کے ساتھ مولانا حشمت علی نوری نے دعاء عاشورہ پڑھائی اور اختتام اجلاس پر عاشورے کے روزے کی مناسبت سے افطار اور تمام شرکاء کانفرنس کیلئے طعام کا نظم کیا گیا۔جناب فاروق شطاری نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اخیر میں عالم ِ اسلام اور بالخصوص وطنِ عزیز ہندوستا ن کیلئے خصوصی دعاء کی گئی۔