امیراحمد سرکل میں ساورکر کی تصویر لگانے کی کوشش،دو لوگوں پر جان لیواحملہ،پولیس کے سخت حفاظتی اقدامات،اسٹیٹ ریزرو پولیس سمیت آر اے ایف کی ٹکڑیاں تعینات
اسکولوں وکالجوں کو تعطیل،تجارتی مراکز بند،سارا شہر سہماہوا،بھدراوتی میں بھی144/نافذ
شیموگہ:۔شیموگہ شہرمیں دو دن قبل آر ایس ایس کے ہیرو وینائک دامودرساورکر کی تصویر کو لیکر جو تنازعہ پیداہواتھا وہ اب مزید گہرا ہوچکا ہے ۔آج صبح شہرمیں یوم آزادی کی تقریبات اطمینان کے ساتھ انجام پائی گئی،ہر کوئی یوم آزادی کی تقریب کوبڑے ہی اطمینان کے ساتھ منارہاتھا،شہرکے امیراحمدسرکل میں بھی عاشورخانہ کمیٹی کی جانب سے یوم آزادی کی تقریب کا اہتمام کیاگیاتھا،جو پورے شان وشوکت کے ساتھ اختتام پر پہنچا،اس کے کچھ ہی دیر بعد وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکنان وینائک دامودر ساورکرکی تصویر کو لیکر امیر احمد سرکل پہنچے اور یہ الزام لگایاکہ جو فلکس پہلے انہوں نے نہروروڈ پر چسپاں کیاتھا اُسے پھاڑ دیا ، اس لئے نئے سرے تصویرکو امیراحمد سرکل میں ہی نصب کرینگے،جیسے ہی اس بات کی اطلاع عاشور خانہ کمیٹی اور سُنی جمعیۃ العلماء کمیٹی کے ذمہ داروں کوملی تو انہوں نے ساورکر کے فلکس کو امیر احمد سرکل سے ہٹانے کامطالبہ کیا ۔ دونوں طرف سے کثیر تعدادمیں احتجاجی جمع ہونے لگے اور پولیس نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے طرفین کو سمجھایا۔مسلم نوجوانوں کے بڑے گروہ کوپولیس نے اس بات کا یقین دلایاکہ وہ سرکل سے ساورکرکی تصویر ہٹائینگے،باوجودا س کے بجرنگ دل کے کارکن اس بات پر اڑے رہے کہ وہ ہر حال میں ساورکرکی تصویر امیر احمد سرکل میں ہی لگاکر رہیں گے ۔ کافی دیر تک پولیس نے بجرنگیوں کوسمجھانے کی کوشش کی،لیکن وہ ماننے سے انکا ر کرتے رہے،جس کے بعد پولیس نے بجرنگ دل کے کچھ لیڈروں کو تحویل میں لیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ہوئے امیر احمد سرکل میں ہزاروں کی تعداد ہندو کارکن جمع ہوگئے،جس کے بعد کشیدگی بڑھنے لگی تھی،دونوں طرف سے نعرے بازیوں کا سلسلہ چلتا رہااور ایک وقت میں ایسا محسوس ہورہاتھاکہ جلدہی امیراحمد سرکل میں کچھ بڑا فساد ہونے والا ہے ،مگر پولیس نے شرپسندوں پر قابوپانے اور حالات کو قابوکرنے کیلئےہلکی لاٹھی چارج کی۔اس کے بعد بجرنگیوں کامجموعہ شیوپانائک سرکل پہنچا جہاں پر انہوں نے اسرارکیاکہ جب تک انہیں ساورکرکی تصویر کو لگانے کا موقع نہیں دیاجاتا اُس وقت تک وہ نہیں ہٹے گیں۔اسی گہما گہمی کےدوران شہرکے گاندھی بازارکے دو الگ الگ مقامات پر دولوگوں کو چاقو سے مارکر زخمی کیاگیاہے،جس میں پراوین اور سنگھ نامی دو افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال میں علاج کیلئے داخل کیاگیاہے،اس کے فوری بعد شہرمیں امتناعی احکامات(144سیکشن) جاری کئے گئے اور کے ایس آرپی،ڈی اے آر اورریاپیڈ آیکشن فورس کی ٹکڑیاں بلالی گئی ہیں۔شیموگہ کے علاوہ بھدراوتی میں بھی144/سیکشن عائدکیاگیا ہے ۔دیر شام تک احتجاجیوں کی جانب سے سرگرمیاں تیزرہیں اور وقتاًفوقتاً امیراحمد سرکل،کستوربار روڈ،ایم کے کے روڈ اور اردوبازارکی طرف گھسنے کی کوششیں کرتے رہے۔ہر طرف شہرمیں خاکی کا پہرانظر آرہاہے،حالات کو قابومیں لانے کیلئے ڈی آئی جی،ایس پی اور اڈیشنل ایس پی سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران شہربھرمیں گشت کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔فی الحال حالات قابومیں ہیں ،مگر نہایت حساس بتائے جارہے ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے بتایاکہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اور 144 سیکشن نافذ ہونے کی وجہ سے شیموگہ اور بھدراوتی کے تمام اسکولوں وکالجوں کو تعطیل دی گئی ہے ۔
کیا ساورکر کامسئلہ مسلمانوں کاہے؟
جنگِ آزادی کے دوران انگریزوں کی تائید کرنے والے وینائک دامودر ساورکر کی تصویر کو لیکر جو تنازعہ پیداہواہے،اُس میں مسلمان شدید مخالفت کررہے ہیں،جبکہ آزادی کے بعد سے اب تک یہ مدعہ کبھی بھی مسلمانوں کا نہیں رہاہے،بلکہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ سے ہی ساورکر کی مخالفت او رمذمت کی ہے۔یقیناً ساورکر ملک کی آزادی کے دوران انگریزوں کی غلامی تسلیم کرنے والاسنگھ پریوارکاہیرو ہے مگر اس کے تعلق سے سیاسی فائدہ ہمیشہ سے ہی کانگریس پارٹی نے اُٹھایاہے۔مگر اچانک ساورکر کے معاملے کو لیکر مسلمانوں نے جس طرح سے اپنا ردِ عمل پیش کیا ہے ، وہ موجودہ حالات کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ساورکر مسلمانوں کا مسئلہ ہے ،مسلمانوں کے پاس ساورکرکے علاوہ اور بھی کئی مسئلے ہیں جن پر مسلمانوں کا ردِ عمل ہونا چاہیے۔غورطلب بات یہ ہے کہ پچھلے تین دنوں سے شہرمیں ساورکر کا معاملہ گرمایاہواہے مگر کانگریس پارٹی کی طرف سے نہ تو ساورکر کی مخالفت ہوئی ہے اور نہ ہی اس مدعے کو لیکر کانگریسیوں نے احتجاج کیاہے،اس کے علاوہ کانگریس کے جو لیڈر اس معاملے کو لیکر جیل گئے ہوئے ہیں اُن کی تائیدمیں بھی کانگریس پارٹی آگے نہیں آئی ہے۔
حالات نازک ہیں ،احتیاط ضروری ہے:
انتخابات کا موسم قریب ہے،ایسے میں فرقہ پرست سیاسی جماعتیں حالات کو بگاڑ کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں،باربار مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور پوری کوشش ہورہی ہے کہ مسلمان جذبات میں آکر بھڑکیں جس کا فائدہ انہیں سیاسی اعتبار سے ہو۔ایسے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پیچیدہ معاملات کے تعلق سے سوچ سمجھ کر قدم اُٹھائیں اورجوش میں آکر ہوش نہ گنوائیں،ورنہ بڑا نقصا اُٹھانا پڑسکتاہے۔
ہمیشہ کی طرح میڈیانے گھولازہر:۔
جیسے ہی ساورکرکی تصویر کو لیکر شہرمیں تنازعہ پیداہوااس کے فوری بعد گودی میڈیانے زہر گھولنے کا سلسلہ شروع کردیا،اور باربار ہندوتنظیموں کو مشتعل کرنے جیسی خبریں پیش کرتے رہے اور اُن لوگوں کوبحث کیلئے لاکھڑاکیا جن سے سماج میں اطمینان کم انتشار زیادہ پیداہو۔ساورکرکی تصویرکو ہٹانے کی بات کو لیکر گھوماپھراکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں نے ترنگا پرچم کو ہٹانے کی کوشش کی ہے اور سرکل میں ترنگا لہرانے سے روکنے کی کوشش کی گئی،اس کے علاوہ یہ بھی افواہ پھیلائی گئی کہ ترنگے کو زمین پر گرایاگیا،لیکن یہ تمام افواہیں اور جھوٹی باتیں ہیں لیکن ان باتوں کو سچ ثابت کرنے کیلئے کنڑامیڈیا ایڑی چوٹی کازور لگاتارہا۔
