شیموگہ:ذبیح اللہ نامی شخص پر پولیس نے کی فائرنگ،کہا ملزم تھا ایک معاملے میں

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
میرے شوہرکو استعمال کرکے واہ واہی لوٹنے کی ہوئی ہے کوشش:ذبیع اللہ کی بیوی کابیان
شیموگہ:۔شیموگہ میں ساورکر معاملے میں ہونے والے فساد کے دوران پریم سنگھ نامی شخص پر جن لوگوں نے حملہ کیا تھا ان میں سے ایک نوجوان پر پولیس نے فائرنگ کی ہے ۔ محمد ذبیح اللہ  فائرنگ میں ز خمی ہونے والانوجوان ہے۔ پولیس کے مطابق ذبیح اللہ  اس معاملے میں اہم ملزم ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس وقت پولیس ذبیح اللہ کو گرفتار کرنے پہنچی اس وقت ذبیع نے ان پر حملہ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے ین ٹی روڈ پر واقع فلک پیالیس کے قریب اس پر فائرنگ کی گئی ہے۔ ذبیع اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے اور اسکے پیر پر گولی لگی ہے۔ یہ کارروائی دیر رات تین بجے ہوئی ہے۔واضح ہوکہ اس معاملے میں مزید دو ملزمان کو پولیس نے حراست میں لیا ہے جنکی شناخت ندیم اور عبدالرحمان کے طور پر کی گئی ہے،انہیں عدالتی تحویل میں بھیجاگیاہے۔ واضح ہوکہ کل شیموگہ کے گاندھی بازار میں پریم سنگھ پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کی وجہ سےوہ شدید زخمی ہے۔دوسری جانب ذبیح اللہ  کی بیوی شبانہ نے روزنامہ آج کاانقلاب سے بات کرتے ہوئے کہاکہ میرے شوہر بے گناہ ہیں،یہ واردات کل یعنی15 اگست کی دوپہر کو انجام ہوئی ہے،اگر میرے شوہرنے پریم سنگھ پر حملہ کیا ہوتاتو وہ فرار ہوچکے ہوتے ،اس کیلئے ان کے پاس کافی وقت تھا،لیکن میرے شوہر بے گناہ ہیں،اس لئے وہ کل شام تک گھرمیں ہی موجودتھے،شبانہ نے بتایاکہ کل شام قریب45.9 کو پولیس اہلکار میرے گھر آئے ہوئے تھے اورذبیح اللہ سے کہاکہ وہ ان کے ساتھ پولیس تھانے آئے۔ذبیح اللہ بغیر کسی مزاحمت کے پولیس کے ساتھ روانہ ہوا اور جب پولیس سے اس کی تحویل کے تعلق سے پوچھاگیاتو پولیس نے شبانہ کوبتایاکہ محض معمولی پوچھ تاچھ کیلئے بلایاگیاہے،جلدہی اسے بھیج دیاجائیگا۔یہ سن کر شبانہ مطمئن تھی،لیکن شبانہ کا کہناہے کہ آج صبح جب اسے اطلاع ملی کہ ذبیع کو پولیس نے فائرکیاتواور وہ اسپتال میں زیر علاج ہے تو وہ اسپتال گئیں تھی جہاں پر ذبیع کے آپریشن کیلئے تیاریاں ہورہی تھیں۔ ذبیع نے شبانہ کو بتایاکہ کل رات قریب30.2 بجے کچھ پولیس اہلکار اسے سنسان علاقے میں لے گئے اور آنکھوں پر پٹی اورہاتھ باندھ کر فائرنگ کرنے کی تیاری کررہے تھے،اُس وقت ذبیع نے خود پولیس کو بتایاکہ اگر مجھے مارناہی ہےتو مجھے پیچھے سے نہ ماریں بلکہ سامنے سے ماریں،اس کے بعد پولیس نے اس کےپیر پر گولی چلائی۔زخمی حالت میں اسے اسپتال میں داخل کیاگیاہے۔شبانہ کاکہناہے کہ پولیس نے میڈیاکو یہ بتایاہے کہ ذبیح اللہ کو صبح4 بجے گرفتارکرتے وقت ذبیع نے پولیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور فرار ہونے کی کوشش کی تھی،یہ بات سراسر جھوٹ ہے ،ذبیح کو کل رات کو ہی پولیس نے حراست میں لیاتھا اور اُس وقت وہ کھانے پر بیٹھا ہواتھا۔شبانہ نےا لزام لگایاہے کہ پولیس نے میرے شوہرکو مارکر شہرمیں یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پولیس کسی بھی حدتک جا سکتی ہے،اس کیلئے انہیں میرا شوہرہی ملاہے۔اگر پولیس کو مارناہی ہے تو میرے بچوں سمیت مجھے بھی ذبیع کے ساتھ ماردیں۔اس طرح کاظلم ہمیں برداشت نہیں ہورہاہے۔مزید انہوں نے کہاکہ میڈیامیں یہ کہاجارہاہے کہ ذبیع کا تعلق پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی سے ہے،مگرمیرا شوہر کسی بھی تنظیم سے جڑا ہوانہیں ہے،یہ سب بکواس باتیں ہیں۔فی الحال میڈیامیں تو شبانہ نے اپنا بیان درج کیاہے،لیکن دیکھنایہ ہے کہ کیا شبانہ اور مسلمان اس ناانصافی کیلئے آگے بھی جدوجہد کرینگے؟۔