کرناٹک میں 6ماہ میں چار افرادکاقتل؛بجرنگ دل سے قتل ہوئے تو  یواے پی اے نہیں،گینگ وارمیں قتل ہونے پر لگ جاتاہے یو اے پی اے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔کرناٹک میں پچھلے چھ مہینوں کےدوران فرقہ وارانہ وارداتوں میں تقریباً 4 نوجوانوں کی موت ہوئی ہے،ان پانچوں نوجوانوں کے معاملات میں حکومت اور پولیس کانظریہ بالکل بھی الگ رہا ہے ۔ سال 2021 کے ستمبرمیں بلگام کے ارباز نامی نوجوان کو سنگھ پریوارکے غنڈوں نے لوجہادکے نام پر قتل کیاتھا،سمیر شاہ پور کو اسی سال کے جنوری میں قتل کیاگیاہے،اس کے بعد دنیش بیلتنگڈی دلت ہونے کے سبب قتل کیا گیا ہے ، مقتول نوجوانوں کے قاتلوں کاتعلق سنگھ پریوارکے بجرنگ دل سے ہے،لیکن ان تمام قتل کی وارداتوں کو انجام دینےو الے قاتلوں پرنہ تویو اے پی اےلگایاگیانہ ہی ان مقتولوں کے لواحقین کو پوٹھی کوڑی معاوضے کے طورپر دی گئی،اُلٹا حکومت اور پولیس نے ا ن لوگوں کوبدنام کیا اور ان کے لواحقین کوحراساں کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔لیکن کرناٹک کے ہرشانامی نوجوان جو خود بھی روڑی شیٹر تھا اور اسے تڑی پار بھی کیاگیاتھا،اُس شخص کے قتل ہونے پر نہ صرف قاتلوں پریو اے پی اےلگایاگیا بلکہ ہرشاکے لواحقین کو اب تک50.2 کروڑ روپئے معاوضے کے طور پر دئیے گئے ہیں،ان میں سے 25 لاکھ روپئے کی رقم سرکاری خزانے سے بھی جاری کی گئی ہے۔اس پر یہ زیادتی کہ ملزمان پر پولیس نےیو اے پی اےلگایاہے،جس کی وجہ سے ملزمان کی زندگی تاریکی میں جارہی ہے ۔ ارباز،سمیر شاہ پور اور دنیش نہ تو ملزمانہ پس منظر رکھتے تھے نہ ہی وہ جرم کی دُنیا سے منسلک تھے،باوجود اس کے ان کے قاتلوں پرنہ ہی یو اے پی اے لگایاگیاہے نہ ہی مقتولوں کو معاوضہ دینے کے تعلق سے بھی کرناٹکا حکومت نے ایک لفظ کہاگیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکومت صرف ہندو شدت پسندوں کیلئے ہے ؟اور کیایہ صرف ہندو تنظیموں کی بقاء کیلئے ہے؟یہ سوالات میڈیاکے سامنے پوچھنے کے بجائے اگر مسلم تنظیمیں اور مسلمانوں کے ہمدرد عدالتوں میں پوچھنے لگیں گے تو اس کا کچھ فائدہ ہوسکتاہے،ورنہ بس مذمت ہی مذمت رہے جائیگی۔