میں جان بچاکر آیا ہوں،ساورکر کے فسادمیں زخمی ہونے والے صدام حُسین نے سنائی آپ بیتی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔15/اگست کو شیموگہ میں ساورکرکی تصویر کو لیکر جو فسادہواتھا اُس دن صدام حُسین نامی نوجوان کو بھی شرپسندوں نے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی،خوش قسمتی سے صدام حُسین زخمی ہونے کے باوجود جان بچاکر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔جس طرح سے منگلورومیں پراوین نٹارے،مسعوداور فاضل کے قتل کی واردات میں حکومت نے متعصبانہ رویہ اختیارکیاتھا بالکل اسی طرح سے شیموگہ میں بھی حکومت اور ضلع انتظامیہ متعصبانہ رویہ اختیارکررہی ہے۔پراوین نٹارے کے اہل خانہ کو ہمت کے ساتھ ساتھ دولت سے نوازاگیاتھا،جبکہ مسعود اور فاضل کے اہل خانہ کےتعلق سے متعصبانہ رویہ اختیارکیاگیا تھا،یہاں پربھی زخمی پریم سنگھ کی عیادت کیلئے بھاجپائی لیڈروں کا جھنڈ جارہا ہے ، لیکن اُسی اسپتال میں داخل ہونے والے صدام حُسین کی مزاج پرسی کرنابھی رکن اسمبلی ورکن پارلیمان سمیت دیگر لیڈروں کیلئےمنظورنہیں تھا۔صدام حُسین نے اس موقع پر روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 15 اگست کے دن جب امیر احمد سرکل میں ہنگامہ آرائی ہوئی تھی،اُس وقت میں گاندھی بازارکی ایک دُکان میں کام کررہاتھا۔ہنگامہ ہونے کی اطلاع ہوتےہی میں دُکان سے نکل گیا تھا ، اس دوران گاندھی بازار میں ایک گروہ کھڑا ہواتھا ،مجھےآتا دیکھ کر انہوں نے مجھے روکااور میرا نام پوچھا،جب میں نے اپنا نام بتایاتو سب نے یہ کہاکہ اسے زندہ نہیں چھوڑناہے اسے مارڈالو۔اتنے میں کسی نے مجھ پر بھاری پتھر سر پر ڈالنے کی کوشش، لیکن میں وہاں سے جیسےہی ہٹا وہ پتھر گردن اور کندھے پر گرپڑا،جس کی وجہ سے میرےجسم پر شدید چوٹیں آئیں اور میں جان بچاکر وہاں سے بھاگ نکلا۔اسی وقت ایک پولیس ویان جو گشت میں تھی اُن سے مددمانگی ،پولیس اہلکاروں نے مجھے لشکر محلے میں چھوڑا، جہاں پر لشکر محلے کے لوگوں نے میرے کپڑے بدل کر مجھے اسپتال پہنچانے میں مددکی۔میگان اسپتال میں علاج کے بعد میں آج ہی گھر لوٹا ہوں،اس تعلق سے میں نے دوڈاپیٹے پولیس تھانے میں شکایت بھی درج کروائی ہےاور مجھےاُمیدہے کہ پولیس مجھ پر حملہ کرنےو الوں پر کارروائی کریگی ۔ایک طرف حکومت اور انتظامیہ اس نوجوان کے تعلق سے لاپرواہی برت رہاہے تو وہیں دوسری جانب مسلم تنظیمیں ،جے ڈی ایس اقلیتی شعبہ،کانگریس اقلیتی شعبہ کے علاوہ کسی نے بھی اس نوجوان کی مزاج پُرسی کرنا ضروری نہیں سمجھا،جو اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ مرتے ہیں تو مرنے دو،جلتے ہیں تو جلنے دو،ہم الیکشن میں اپنے آپ کو لیڈر بنائینگے۔