پولیس آئی پی سی کے تحت کام کرے نہ کہ بی جے پی کے تحت: پرسنناکمار

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:شہر میں بی جے پی چاہے کچھ بھی کرلے اس پر سوال کرنے کی طاقت محکمہ پولیس کھوچکی ہے۔ اس بات کی تنقید سابق رکن اسمبلی کے بی پرسنناکمار نے کی ہے۔انہو ں نے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل سیکشن نافذ کرنے سے کاروبار اور تاجران طبقہ مشکل میں آچکا ہے۔ محنت کش طبقہ مصائب کا شکار ہے۔ سیکشن نافذ کرنے سے قبل بلا اعلانیہ بند کردیا جارہا ہے جس سے عام لوگوں کا جینا محال ہوچکا ہے۔پولیس کو چاہیے کہ وہ آئی پی سی کی دفعات کے تحت کام کرے نہ کہ بی جے پی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر میں فسادبرپا ہوتا لیکن یہاں بی جے پی کارکنان کسی کی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ دکھائی دیتے ہیں تو صرف دوسرے افراد اورکسی ایک طبقے کو نشانہ بناکر گرفتار کیا جاتا ہے۔ امتیازی سلوک کی طرح پولیس اپنا رویہ اپنارہی ہے۔آئے دن اسطرح کے بند ، دنگے، فسادات کی وجہ سے کولی مزدور، ٹھیلا گاڑی کے کاروباری، وغیرہ اپنی زندگی کا گزارا مشکل سے کرپارہے ہیں۔ لیکن پولیس ان سب کو نظرانداز کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر آف کامرس نے بھی پولیس کی کارکردگی پر اپنا شدید اعتراض ظاہر کیا ہے۔ بغیر کاروبار کے دکانوں کا کرایہ ادا کرنا تاجروں کیلئے مشکل ہوجاتا ہے یہی بات انہوں نے افسران کے آگے بھی رکھی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر اسی طرح کے حالات مستقبل میںبھی ہوتے رہیں تو ضلع کی معاشی اوراقتصادی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 15اگست کو ہونے والے واقع کے بعد حالات روزانہ ایک نیا رخ لے رہے ہیںیہ تشویشناک ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ پولیس کو بنا کسی امتیازی سلوک کے عوام کے مفادات کو سمجھتے ہوئے امن وامان بحال رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور محکمہ پولیس پر عوام کا جو بھروسہ ہے اسے قائم رکھنا چاہئے۔ انہوں نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں جسطرح پولیس کا رویہ ہے اس پر شبہ ہورہا ہے۔ اے ایس آئی پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے بی جے پی کارکن کو گرفتار نہیں کیا گیا، ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی ہے۔ خطاکار کوئی بھی ہو ان پر سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔