بنگلورو:۔کرناٹک میں ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کو لیکر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماضی میں جب اس پر بات ہوئی تو پارٹی کے لیڈروں نے اسے یکسر مسترد کر دیا تھا۔ اسی دوران کانگریس کے ایک لیڈر نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کیلئےڈھائی ہزار کروڑ روپے میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ فروخت کی خبر پرایک بار ریاست میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کی بات ہو رہی ہے۔ یہ بحث ریاست کے سب سے قد آور لیڈر اور دہائیوں سے لنگایت ذات کا چہرہ رہنے والے بی ایس یڈی یورپا کے بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ میں شامل ہونے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بی جے پی نے سب سے بڑے لنگایت لیڈر کو اپنی اعلیٰ اکائی کا ممبر بنا لیا ہے، پھر لنگایت وزیر اعلیٰ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ خیال رہے کہ چیف منسٹر بسواراج بومائی بھی لنگایت ہیں اور انہیں یڈی یورپا کی رضامندی سے بنایا گیا تھا۔اب بی جے پی ریاست میں لنگایت بمقابلہ ووکلیگا اور لنگایت بمقابلہ او بی سی کے درمیان توازن پیدا کرنے کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پارٹی وکلیگا لیڈر کو وزیر اعلیٰ بنا کر دونوں بڑی ذاتوں کی خدمت کر سکتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے پاس ووکلیگا کے مضبوط لیڈر ہیں۔جے ڈی ایس ووکلیگا برادری کی سیاست کرتی ہے اور دیوے گوڑا خاندان اسی برادری سے آتا ہے۔ ایچ ڈی دیوے گوڑا اس کمیونٹی کے سب سے بڑے لیڈر ہیں۔ ووکلیگا کمیونٹی کا ایک اور بڑا چہرہ ڈی کے شیوکمار ہیں، جو کانگریس کے ریاستی صدر ہیں اور وکلیگا کو سی ایم بنانے کی داؤ پر لگا کر اگلا الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر بی جے پی پسماندہ ذات کے لیڈر کو وزیر اعلی بناتی ہے تو کانگریس کے پاس ان سے مقابلہ کرنے کیلئےسابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کا چہرہ ہے۔ اسی لیے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آخر میں بی جے پی لنگایت کو ہی وزیر اعلیٰ بنائیگی تاکہ کم از کم وہ ووٹ محفوظ رہے۔
