وقف کی پراپرٹی پر اب تک صرف عیدین کی نماز ادا کی جاتی تھی
بنگلورو:۔کرناٹک کے بنگلورومیں واقع چامراج پیٹ عیدگاہ میدان میں گنیش اتسوا منانے کیلئے ہائی کورٹ نے اجازت دی ہے۔۲۵‘اگست کو کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہاتھاکہ یہاں پر عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نمازوں کو اداکرنے کے علاوہ اس میدان کو صرف کھیل کودکیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے ، اس کے علاوہ کسی اور سرگرمی کو انجام دینے کیلئے اجازت نہیں ہوگی،لیکن اس فیصلے کے خلاف کرناٹکا ہائی کورٹ کی اعلیٰ سطحی بینچ سے رجوع کیاگیاتھا جہاں پر۳۱اگست کوگنیش اتسوامنانے کیلئے منظورطلب کی گئی تھی،اس عرضی پرشنوائی کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی بینچ نے گنیش اتسوا منانے کیلئےمنظوری دے دی ہے۔ہائی کورٹ میں کرناٹکا وقف بورڈنے عرضی دائر کرتے ہوئے کہاتھاکہ یہ عیدگاہ مسلمانوں کی املاک ہے،بی بی ایم پی نے اس املاک کو ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی املاک ہونے کا جو دعویٰ کیاہے وہ درست نہیں ہے،اس لئے عدالت حکومت کو یہ احکامات جاری کرے کہ عیدگاہ صرف وقف بورڈکی املاک قرار دیاجائے نہ کہ ریونیو محکمہ کی املاک شمار کیا جائے،اس کے علاوہ وقف بورڈنے یہاں عیدین کی نمازکے علاوہ اور کسی بھی سرگرمی کو انجام دینے سے روکنے کیلئے بھی عدالت سے گذارش کی تھی جس کے مطابق۲۵اگست کو کرناٹک ہائی کورٹ کی ایک رکنی بینچ نے کہاتھاکہ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نمازیں یہاں پراداکی جائیںاور کسی بھی تہواروں واجلاس کیلئے گنجائش نہیں ہوگی۔یادر ہے کہ چامراج پیٹ علاقہ کی چند ہندو تنظیموں نے امسال گنیش تیوہار کے موقع پر یہاں گنیش پنڈال لگانے اور گنیش کی مورتیاں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں گزشتہ چند دنوں سے اس پورے میدان میں پولیس سیکوریٹی بڑھادی گئی تھی۔گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد کرناٹک بورڈ نے راحت کی سانس لی تھی، لیکن آج ہائی کورٹ کی دوسری ذیلی بینچ کی جانب سے دئیے گئے فیصلے نے کرناٹک وقف بورڈ کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ اس کے علاوہ بنگلورو کے مسلم تنظیمیں اور قائدین اس معاملے کو فوری طور پر سپریم کورٹ لے جانے کی پہل کررہے تھے مگر تکنیکی وجوہات کی بناء پر یہ ممکن نہیں ہوپارہا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پیر کے دن لے جایاجاتا ہے تب بھی فوری راحت ملنے کے امکانات کم بتائے جارہے ہیں۔
