شیموگہ:۔اس وقت شیموگہ کے حالات دیکھیں کہ کس طرح سے شیموگہ کے حالات آئوٹ آف کنٹرول ہورہے ہیں، قریب ایک لاکھ مسلمانوں کی آبادی،60 ہزارکے قریب مسلم ووٹرس،70 کے قریب مساجد ہونے کے باوجود یہاں کے حالات اس قدر بگڑے ہوئے ہیں کہ مسلم قیادت کا دور دورتک نام ونشان نہیں ہیں،نہ ملّی قیادت مضبوط ہے،نہ ہی سیاسی قیادت اس قدر بےباک ہے کہ مسلمانوں کی قیادت کیلئے ڈنگے کی چوٹ پر بات کرے ۔پورے شہرمیں جس طرح سے عام مسلمان پس وپیش کا شکار ہیں یہ ان کی سنے گا کون اور ان کیلئے مشکل حالات میں بات کریگا کون؟۔جب بھی کوئی تنظیم یا گروپ مسلمانوں کی قیادت کیلئے آگے بڑھتاہے تو اُس گروپ کو ختم کرنے یا کمزور کرنے کیلئےمسلمانوں کاہی دوسرا گروپ تیار ہوجاتاہے اور پہلے گروپ کو ختم کرنے کے بعد دوسرا گروپ بھی غائب ہوجاتاہے، یہاں قیادت کرنے کیلئے گروپ بنانے سے زیادہ ایک دوسرے کو ختم کرنے کیلئے گروپ بن رہے ہیں،جس کا خمیازہ عام مسلمانوں کو اٹھاناپڑرہاہے۔محاذ کی تشکیل ہوئی،پھر محاذ ٹوٹ گیا،پھر بنا پھر ٹوٹا،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل ہوئی بنی اور ٹوٹی،انجمنیں بنی اور ٹوٹیں،راتوں رات شیموگہ مسلم وکوٹا بنا پھر صبح کی پہلی کرن میں بکھر گیا ۔ اسی طرح سے اور بھی کئی تنظیمیں بنتی گئیں اور ٹوٹی گئیں ۔ پاپولرفرنٹ آف انڈیاموجودہے،لوگ اُسے مانتے نہیں اور پاپولرفرنٹ آف انڈیا لوگوں کی مانتی نہیں۔عمائدین کو جوڑاجاتاہے تاکہ وہ مسلم قیادت کی باگ ڈور سنبھالے،بعدمیں انہیں عمائدین کو مسلک،مکتب اور عقیدوں کے نام پر توڑ دیا جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ شیموگہ میں مسلم قیادت اب مکڑی کے جال سےزیادہ کمزور ہوچکی ہے،سب کو فکرہے تو صدر،سکریٹری،چیرمین یا پھر کُرسی کی،کُرسی یا اسٹیج نہیں ملاتو اُس تنظیم کو توڑنے کیلئے سب کمربستہ ہوجاتے ہیں ۔ اگر تھانوں میں بات کرناہے یا پھر حق کا مطالبہ کرناہے تو وہاں پہلے سےہی خبریوں اور دلالوں کا سہارالیکر مسلم گرو ہ کو بدنام کردیاجاتاہے اور وہاں چلتی بھی ہے تو صرف ساورکرکے مریدوں کی۔حق بات کرنےو الوں کو نا کام ہوکر لوٹنا پڑرہاہے۔مصلیحت اور حکمت کے نام پر حق کا مطالبہ کرنا محض اس لئے مشکل ہوچکاہے کہ مسلمانوں کی طرف سے مضبوط آواز نہیں بنائی جارہی ہے۔خودمسلم سیاسی قائدین میں ان بن ہے اور مسلمان قائدکو تسلیم کرنے کے دوران یہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ ہماری قیادت کرنے والاغیر جانبدار،حق پرست،ہمت والایاپھر جذبات اور حکمت کے ساتھ کرنے والا ہو بلکہ یہ دیکھا جارہاہے کہ وہ بریلوی ہے یا دیوبندی،اہلحدیث ہے یا جماعت اسلامی یاپھر وہ کونسے گروہ کا ہے ۔یہاں قائد چننے سے زیادہ قبرمیں منکیر نکیر کی طرح اعمال و عقیدہ کا پس منظر دیکھنے والے بن گئے ہیں۔غیر مسلمانوں پر مسلط ہیں،مسلم تنظیموں کی سرپرستی اننا اپا کررہے ہیں،کوئی کسی کو چانکیہ قراردے رہاہےتو کوئی کسی کو نیتا قرار دے رہاہے۔ایسے میں مسلم قیادت کہاں سے بڑھ پائیگی اور مضبوط ہوپائیگی۔حالات اس قدر بدترہوچکے ہیں کہ کبھی بھی کوئی بھی کیسے بھی آکر مسلم نوجوانوں کو دبوچ کر لے جارہا ہے اور اس پر سوال کرنےوالا کوئی نہیں ہے ۔یواے پی اے جیسے قوانین تھوپے جارہے ہیں مگر مسلمانوں میں کوئی حرکت نہیں دکھائی دے رہی ہے،اگر کوئی غلطی کرتاہے تو اُسے سزا ملنی چاہیے،لیکن اُس کی غلطی کیاہے کم ازکم یہ پوچھنےوالاکوئی نہیں ہے۔ہر بار پولیس اس بات کا حوالہ دیتی ہے کہ ہم نے ملزم کو یا دنگا کرنےو الےویڈیومیں دیکھا ، اُس کی ویڈیو ہمارے پاس موجودہے،لیکن کیا کبھی مسلمانوں نے اُن ویڈیوز کو خود دیکھنے کی پہل کی ہے؟یا کبھی اُن ویڈیوز میں شناخت کرنے کیلئے پولیس نے مسلم قائدین نے مدعوکیا؟بالکل نہیں ۔پولیس جان چکی ہے کہ مسلمانوں میں سوال کرنے والے ناپید ہوچکے ہیں اور حق کا مطالبہ کرنے والاکوئی نہیں ہے،اس لئے وہ اپنے آقائوں کے حکم کے مطابق کام کررہے ہیں ۔ ہاں ، ویڈیوزمیں تصدیق کرنے کیلئے چند خبریوں کا سہارا لیا جا تا ہے ، اب وہی مسلمانوں کے قائد بن چکے ہیں،جب مسلمان ساورکر اور میر صادق کو اپنا قائد تسلیم نہیں کرتے ہیں تو پولیس کے خبریوں کو کیسے قائد تسلیم کرلیتے ہیں؟۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت مسلمانوں کہ ہرطبقے کے لوگ مل بیٹھ کر قیادت کے تعلق سے کام کریں،ورنہ آنے والے دنوں میں ہر گھر کابچہ یواے پی اے جیسے قوانین کا شکا ر بنے گا۔
