کھیل کے میدان میں ہر کھلاڑی صرف کھلاڑی ہوتا ہے:حافظؔ کرناٹکی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
 شکاری پور تعلق کے جونیر کالجوں کے مابین مختلف کھیل کے مقابلوں کا آغاز
شکاری پور:۔کھیل زندگی کے لیے اسی طرح ضروری ہے جس طرح زندہ رہنے کیلئے خوراک ضروری ہے۔ کھیل اور تعلیم کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے۔ اسی لیے کھیل کو ہر تعلیمی ادارے میں خاص اہمیت دی جاتی ہے اور حکومت بھی اس پر خاص توجہ دیتی ہے۔ اسی سلسلے میں شکاری پور گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج کے اسٹیڈیم میں آج بروز سنیچر۳؍ستمبر کو تعلق سطح کے جونیر کالجوں کے کھیل میلے کا زبیدہ انسٹیٹیوٹ کی میزبانی میں افتتاح کیا گیا۔ اس افتتاحی جلسے کی صدارت کے فرائض زبیدہ انسٹیٹیوشن آف ایجوکیشن کے بانی و سرپرست قومی انعام یافتہ شاعر و ادیب ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے ادا کیے۔ اس افتتاحی جلسے میں سبھی سرکاری و نیم سرکاری اور دیگر جونیر کالجوں کے پرنسپلوں اور کئی اساتذہ کے علاوہ کنڑا صحافتی تنظیم کے ضلعی صدر ہچرایپّا، ایچ،کے فاؤنڈیشن کے صدر فیاض احمد اور جونیر سرکاری کالج کے پرنسپل ناگراج، سرکاری گرلس جونیر کالج کے پرنسپل ملّیکارجن ، کومودوتی کالج کے پرنسپل بریندرپاٹل، چنّا ملیکارجنا پی یو کالج کے پرنسل موہن ، اینڈی پینڈینٹ پی یو کالج کے استاد جے ڈی یپّا ، زبیدہ پی یو کالج کے پرنسپل تپیش ،تعلق جونیر کالج لکچراسوسی ایشن کے صدر دیوکمار ، زبیدہ انسٹیٹیوٹ کے کھیل تنظیم کے عہدے داروں نے شرکت کی۔ اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے کھیل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کھیل زندگی کو آگے بڑھانے کیلئے طلبا کو صحتمند، تندرست، اور چاک و چوبند رکھنے کیلئےبے حد ضروری ہے ۔ ایک صحتمند جسم میں ہی ایک صحتمند دماغ ہوتا ہے اور جس ملک اور سماج میں صحتمند جسم والے طلبا اور طاقتورذہن والے طلبا کی تعداد جتنی زیادہ ہوتی ہے وہ ملک اور سماج مستقبل کی طرف بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ روشن مستقبل کی طرف اتنی ہی خود اعتمادی اور جوش و امنگ کے ساتھ قدم آگے بڑھاتا ہے ۔ کھیل بچوں اور بچیوں کو زندگی میں مل جل کر رہنے اور ہار جیت کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرنے کا درس دیتا ہے، کھیل کا میدان دراصل زندگی میں تجربے کے ساتھ آگے بڑھنے کا میدان ہوتا ہے۔ جو زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ کرتا ہے اور نئی نسل کے حوصلوں کو نئی بلندی عطا کرتا ہے۔ جس طرح زندگی کے سنگھرش میں اونچ نیچ، چھوٹے بڑے، امیر غریب، اور ذات پات کا بھید بھاؤ مٹ جاتا ہے اسی طرح کھیل کے میدان میں بھی سارے بھید بھاؤ مٹ جاتے ہیں۔ کھیل کے میدان میں ہر کھلاڑی صرف کھلاڑی ہوتا ہے، جس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں ہر انسان صرف اور صرف انسان ہوتا ہے،اسی سے ملک اور سماج بنتا ہے اور اس کے حوصلوں اور امنگوں سے مستقبل کے خوابوں کی تعبیر ملتی ہے۔ انہوں نے آخرمیں کہا کہ کھیل کے میدان کی یہی اپنائیت اور جوش اور ہمارے ملک کو ایکتا اور اتحاد کے راستے پر مضبوطی سے چلنے کی طاقت عطا کریگا۔ہچرایپّا نے اپنے خطاب میں کہا کہ زندگی بھی ایک کھیل کا میدان ہے۔ جو لوگ کھیل کلچر کو اپنی زندگی میں اپنا لیتے ہیں وہ زندگی کے کسی مشکل سے نہیں گھبراتے ہیں۔ اور نہ کسی کے بہکاوے میں آتے ہیں۔ ان کی نظر ہمیشہ اپنے گول پر ہوتی ہے اور آپ یقین جانیے کہ جیت ایسے ہی لوگوں کا مقدر ہوتی ہے۔ایچ کے فاؤنڈیشن کے صدر فیاض نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم اور کھیل کا چولی دامن کاساتھ ہے۔ دونوں طلبا اور طالبات کو مشکلوں سے گذر کر کامیابی کی منزل تک پہونچنے کا درس دیتا ہے۔ کھیل سے انسان کے اندر کا جوش برقرار رہتا ہے۔ اور تعلیم سے اسے نئی منزلوں کا پتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کھیل کی اہمیت سے کبھی بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔کرشن اپّاجی، ڈی ، ڈی پی آئی شیموگہ نے کھیل میلے کے افتتاح کا آغاز کھیل پرچم لہرا کرکیا۔ اور اپنے خطاب میں کہا کہ؛ تعلیم انسان کو زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ منزل کے تعین کے قابل بناتی ہے اور کھیل زندگی کے راستے میں آنیوالی مشکلوں پر قابو پانے کا حوصلہ اور جذبہ بخشتا ہے۔ منزل کو گول سمجھ کر اسے اچیوکرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اس لیے تعلیم کو کھیل سے اور کھیل کو تعلیم سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھیل دراصل ایک سیکولر اور جمہوری ملک کے شہریوں کیلئے عملی تعلیم ہے ، جس طرح کوئی گیم آپسی میل جول اور کھلاڑیوں کے آپسی سہیوگ سے نہیں جیتا جاسکتا ہے اسی طرح کوئی ملک آپسی میل جول اور ایک دوسرے کے سہیوگ کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ کھیل ہر کھلاڑی کو ذمہ دار بنانے اور ریس پونسیبلٹی قبول کرنے کا درس دیتا ہے۔ یہی سبق قوم اور ملک کا مزاج بناتا ہے۔ جس سے ملک اور قوم کی ترقی کے راستے کھلتے ہیں۔یہ افتتاحی جلسہ این اے مڈی کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچا۔