حجاب معاملہ؛ہائی کورٹ نے فیصلے میں قرآنی آیات کاحوالہ لینے کے بجائے آیات کی تشریح کا حوالہ لیا

سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
اڈوکیٹ نظام پاشاہ نے سپریم کورٹ میں دی دلیل؛اگلی سماعت12ستمبرکو
دہلی:۔حجاب معاملے کے تیسرے دن کاآغاز اڈوکیٹ دیودت کامت نے کیا۔انہوں نے آج کی بحث میں عدالت کو مختلف دلائل کے ذریعے سے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سائوتھ آفریقہ جیسے ممالک میں حجاب کے تعلق سے آزادی دی گئی ہے تو ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں اس پر پابندی عائد کیوں کی جارہی ہے۔جسٹس دھولیانے آسٹریاکے ججمنٹ کے تعلق سے بتایاکہ وہاں پر حجاب کی پابندی ہے،اس پر دیودت کامت نے کہاکہ وہ ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بناکر لیا جانے والافیصلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ میری بحث آرٹیکل25 پر ہے،جس میں تین شق ہیں،عوامی احکامات،اخلاقی احکامات اور صحت پرمبنی احکامات ہیں،لیکن حجاب کو عوامی احکامات کے دائرے میں لایاگیاہے یہ کیسےممکن ہے ۔ حجاب کا معاملہ نہ عوامی معاملات میں آتاہے نہ ہی اخلاقی معاملات میں یا پھر صحت کے معاملے میں درج کیاگیاہے۔جسٹس دھولیانے کہاکہ آپ نے آج کہاکہ یہ معاملہ مذہبی عمل کے ماتحت آتاہے مگر کل آپ نے کہا تھا کہ یہ مذہبی معاملہ نہیں،اس پراڈوکیٹ کامت نے کہاکہ میں اس پر تفصیل دونگا،یہ آرٹیکل19 اور25 کے ماتحت آنےوالامعاملہ ہے۔ہر کوئی مذہبی عمل کسی مذہب کا ضروری عمل نہیں ہوتاہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست اس عمل کو منسوخ کرے اور اسے عوامی ،اخلاقی اور صحت کے دائرے میں لاکر ختم کرے،میں نے آج اپنے ماتھے پر نامم لگایاہےجبکہ اڈوکیٹ پرساسرن نے نامم نہیں لگایاہے،تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ نامم مذہب کا حصہ نہیں ہے۔ا س پر جسٹس گپتا نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ آپ عدالت میں ڈریس کوڈ کا موازانہ نہیں کرسکتے،سکھوں کیلئے پگڑی لازمی ہے،جبکہ راجستھان کے لوگ بھی پگڑی پہنتے ہیں مگر وہ اُن کیلئے مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے۔اڈوکیٹ کامت نے عدالت کو بتایاکہ اسکول کے معاملات کو پبلک آرڈرکے تحت نہیں لایاجاسکتا،اگرمیں حجاب کا استعمال کرتاہوں اور کوئی اس پر اعتراض کرتاہے،نعرے بازی کرتاہے تو اس بنیاد پر پولیس یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں حجاب نہ پہنو،بلکہ اعتراض کرنےو الوں کو روکنا پولیس کا کام ہے۔گذشتہ روز اڈوکیٹ جنرل نے جی او کے تعلق سے بتایاکہ حجاب پہننے کے بعد کچھ طلباء نے زعفرانی شال پہننے کی بات کی تھی،تو کیا زعفرانی شال کو مذہب کا حصہ ماناجاتاہے،ایسابالکل نہیں ہے،یہ صرف توتومیں میں کی بنیاد پر ہواہے۔اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ کرناٹکا ہائی کورٹ کافیصلہ خواتین کیلئے توہین آمیز ہے،کیا حجاب پہننے سے خواتین کی توہین ہوتی ہے اور یہ فیصلہ پبلک آرڈرکے حدودمیں لاکرمذہبی حقوق کو پامال کرنے کے برابرہے۔آرٹیکل25 شہریوں کو اپنے مذہبی حقوق کا استعمال کرنے کی اجازت دیتاہے،اگرمیں نامم لگاتاہے تو مسلم حجاب پہننے کی آزادی رکھتے ہیں،جبکہ زعفرانی شال مذہب کا بنیادی عمل نہیں ہے،یہ تمام آئینی معاملات ہیں جسے عدالت ترجیح دے،مذہبی آزادی اور مذہبی حقوق میں اختلافات ہیں،اس پر غورکرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سی ڈی سی پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ سی ڈی سی کا صدر ایم ایل اے ہوتاہے اور وہ عوام کی نمائندگی کرتاہےنہ کہ وہ دستورمیں ترمیم کرنے کاحق رکھتاہے۔ا ن تمام حوالات کے بعد دیودت کامت نے اپنی بحث مکمل کی ۔ اس کے بعد اڈوکیٹ نظام پاشاہ نے اپنا موقف رکھنا شروع کیا۔نظام پاشاہ نے بتایاکہ دیودت کامت ہندولاء کے ایکسپرٹ ہیں جبکہ میں اسلامک لاء کا طالب العلم ہوں ، میراسب سے پہلا سوال یہ ہے کہ مذہبی ضروری عمل ( Essential Religious Practice) کو کس طرح سے ٹیسٹ کیاجاتاہے۔انہوں نے عدالت میں سوال رکھا کہ جب بابری مسجد کا فیصلہ ہواتو وہ مذہبی عقائد کی بنیادپر ہواہے اور مذہبی بنیادوں کولیکر فیصلے سنائے گئے۔اسی طرح سے اسلامی تعلیمات کو تین ذرائعوں سےعمل کیاجاتاہے،محمڈن لاء، قرآن اور حدیث ہے۔اس پرجسٹس گپتانے سوال اٹھایا کہ ہم اُن آیتوں کو جاننا چاہیں گے کہ حجاب کو لازمی قرار دیاہے۔اڈوکیٹ پاشاہ نے بتایاکہ قرآن میں لفظ خِمار کا استعمال کیاگیاہے،جس کے ہندوستانی زبان کے معنی حجاب کے ہے۔قرآن کی سورۃ النورکی آیت31اور24 کوحوالہ دیاگیا۔اس پر جسٹس دھولیانےبتایاکہ ا س تعلق سے آپ ہمیں واضح بتائیں۔اڈوکیٹ نظام پاشاہ نے بتایاکہ ،نماز، روزہ، زکوٰۃ،توحید اور حج یہ اسلام کے بنیاد ی فرائض ہیں،اسی طرح سے قرآن میں بتایا ہوا ہر حکم مسلمانوں پر فرض ہے۔یہاں جلباب کاحکم نہیں ہے بلکہ حجاب کا حکم ہے جو سرکو ڈھانپنے اور سینے کو چھپانے کیلئے فرض ہے،جسٹس گپتانے پوچھاکہ برقعہ کیاہے،اس پر اڈوکیٹ پاشاہ نے بتایاکہ برقعہ فارسی لفظ جلباب کیلئے استعمال کیاجاتاہے،جبکہ ہائی کورٹ کے ججوں نےدوسری آیتوں کی تشریح کو بنیاد بناکر فیصلہ سُنایاہے جو درست نہیں ہے اور تشریح کا حوالہ لیاگیاہے وہ قرآن کاحکم نہیں بلکہ مترجم کی رائے ہے۔قرآن کے مترجم عبداللہ یوسف علی نے جلباب کوضروری نہیں بتایاہے،اس پرجسٹس دھولیانے پوچھاکہ کیا ہائی کورٹ نے جلباب کی جگہ حجاب کو ممنوع قراردیاہےاورکیا حجاب نہ پہننے والوں کوخدامعاف کرنے والا ہے ؟ اس پر اڈوکیٹ پاشاہ نے حامی بھرتے ہوئے کہاکہ جی ہاں یہی ہائی کورٹ نے غلطی کی ہے ، جسٹس گپتانے پھر سے پوچھاکہ قرآن کی کونسی آیت میں حجاب میں کےتعلق سے بیان کیاگیاہے،اس پر اڈوکیٹ نظام پاشاہ نے سورۂ النورکاحوالہ دیا۔انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ نے حجاب اور جلباب میں معنی نہیں سمجھا اور اپنےفیصلے میں غلطی کرتے ہوئے کہاہے کہ حجاب ضروری نہیں ہے اور اس کے نہ پہننے سے کوئی گناہ نہیں ہوگا اور اس سے خداکی نافرمانی نہیں مانی جائیگی۔جسٹس دھولیانے کہاکہ لیکن اس میں کسی بات کا تصادم نہیں ہے کیونکہ قرآن نے کہاہےکہ مذہب میں کوئی دبائونہیں ہے،اس پراڈوکیٹ پاشاہ نے بتایاکہ یہ سب مذہبی عمل ہیں جو زندگی کے بعدکیلئے کئے جاتے ہیں اور اس کی سزا وہیں طئے ہوتی ہےنہ کہ وقتی سزا اس پر طئے ہے ۔اڈوکیٹ پاشاہ نے عدالت کو مزیدبتایاکہ ہائی کورٹ نےماناہے کہ حجاب بہترین مذہبی عمل ہے،مگر جو تشریح عدالت نے کی ہے وہ درست نہیں ہے۔قرآن میں الگ الگ مقامات پر اس تعلق سے بیان کیاگیاہے کیونکہ قرآن سلسلے سے نہیں اتراہے بلکہ بعدمیں اسے ترتیب دیاگیاہے۔مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قرآن ہردورکیلئے اتاراگیاہے اور اس کے معنی نہ کبھی بدلیں گے اور نہ ہی آیتیں بدلے گیں۔حدیث میں پیغمبرﷺنے کہاکہ چادر سب سے اہم ہے اور قرآن نے کہاکہ پیغمبر کے احکامات کومانوتو ا سکے بعد اورکوئی حوالہ دیناضروری نہیں ہے۔ہائی کورٹ نے محمد محسن خان کے ترجمے پر شک ظاہرکیاہے،وہیں اسی ترجمے کو اپنے فیصلے میں لیاہے۔جبکہ عبداللہ یوسف علی کےترجمے کا حوالہ بھی لیاگیاہے جبکہ وہ سُنی بھی نہیں ہیں۔جب طلاق ثلاثہ کاحوالہ قرآن وحدیث میں نہیں ہے تو عدالت اس پر فیصلہ سنا رہی ہےجبکہ حجاب کا تعلق قرآن سے ہے تو اس میں کیوں فیصلہ نہیں ہورہاہے۔اس پر جسٹس گپتانے کہاکہ آپ اس سلسلے میں مختصر نوٹ دیں اور کونسی آیتوں کو اور کس مترجم کو پیش کرنا چاہیں گے وہی پیش کریں۔وکیلوں کے دلائل سننے کے بعد ججوں نے اس بات کا فیصلہ کیاکہ حجاب معاملے میں اگلی سماعت بروز پیر12 ستمبر کی دوپہر2 بجے شروع کی جائیگی۔