شیموگہ:۔پیار،عشق ومحبت کے چکرمیں مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادیاں رچارہی ہیں اور اس تعلق سے والدین خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں جبکہ والدین کی پشت پناہی یا خاموشی کی وجہ سے سماج کے ذمہ داران بےبس ولاچار ہوتے جارہے ہیں۔حال ہی میں شیموگہ کی ایک انجینئرنگ کی تعلیم یافتہ مسلم لڑکی نےغیر مسلم لڑکے کے ساتھ رجسٹر میریج کیلئے بنگلورو میںرجسٹریشن کروایاتھا اور یہ رجسٹریشن کاپی سوشیل میڈیامیں تیزی کے ساتھ گھومتا رہا۔جب لڑکی کو والدین نے کسی بہانے اپنے پاس بلوایا اور اسے سمجھا بجھا کر ملحد ہونے سے روکنے کی کوشش کی تو یہ لڑکی کچھ دن خاموش رہی مگر پھر والدین کی تحویل سے رفو چکر ہوگئی ۔ ایساہی ایک واقعہ گلبرگہ میں پیش آیاہے جہاں پر سہانا نامی لڑکی سچن نامی لڑکے کے ساتھ فرار ہوگئی تھی، اب وہ اس کے ساتھ شادی رچاکر لوٹ آئی ہے اب وہ پولیس سے رجوع کرتے ہوئے تحفظ کا مطالبہ کررہی ہے۔یہ دونوں واقعات صرف دس دن کے درمیان پیش آنے والے ہیں ، اس طرح کے درجنوں واقعات مسلم معاشرے میں کہیں نہ کہیں پیش آرہے ہیں جن میں کچھ ظاہرہورہے ہیں تو کچھ معاملات پس پردہ رہ رہے ہیں اور بڑے پیمانے مسلم لڑکیاں ملحد ہوتی جارہی ہیں۔عام طور پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنےو الی بچیوں کے تعلق سے والدین کچھ زیادہ اعتماد رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ میل ملاپ کرنے والے نوجوانوں کو فیملی فرینڈ بنا رکھتے ہیں،یہی فیملی فرینڈ آگےچل کر ان کیلئے فتنے بنتے جارہے ہیں ۔ اگر کوئی مسلم لڑکا کسی غیر مسلم لڑکی کے ساتھ شادی کرتاہے تو اس شادی کوسرکاری سطح پر یا سنگھ پریوارکے ذریعے یہ مانا جاتا ہے کہ یہ لوجہادہے،جبکہ مسلم لڑکیوں کے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ ہونےو الی شادیوں کو گنگا جمنا تہذیب کا نام دیا جاتاہے یاپھر گھر واپسی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔ بدلتے حالات میں والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کیلئے بھی اہمیت دیں،ان بچوں کو دینی ماحول فراہم کریں اور ملحد ہونے کی کیا لعنت ہے اس تعلق سے انہیں بآور کریں ۔ بارہا اس طرح کی خبریں منظرِ عام پر آنے کے باوجود والدین اس اُمید پر قائم رہتے ہیں کہ ان کے بچے ایسے نہیں ہونگے،جبکہ فتنہ پنپنے میں نہ وقت لگتاہے نہ ہی خاندان کو دیکھاجاتا ہے ۔ سرکاری اعداد وشمارکے مطابق بھارت میں ہر سال تبدیل مذہب کے جو معاملات پیش آرہے ہیں،ان میں100 میں سے 22 مسلم لڑکیاں ہندو مذہب اختیار کررہی ہیں جبکہ 10 مسلم لڑکیاں عیسائی مذہب اختیارکررہی ہیں جبکہ مسلم لڑکوں کی شرح اس میں کم ہے،لڑکوں کی تعداد 100 میں سے 9 مسلم لڑکے ہی ہندو بن رہے ہیں اور تین لڑکے عیسائی مذہب اپنا رہے ہیں۔اس طرح سے یہ بات واضح ہے کہ مسلم لڑکیاں ہی الحاد کی شکارہورہی ہیں ، وہ بھی صرف جھوٹے پیار،عشق یامحبت کی خاطر۔نوجوان نسلوں کو ا س تعلق سے بیداری لانے کیلئے فوری عمل کرنے کی ضرورت ہے ، ورنہ آنے والے دنوں میں مزیدمسلم نسلیں اس جال کاشکارہوسکتی ہیں۔
