شیموگہ:۔شیموگہ شہرمیں ہندومہا سبھا گنپتی کے جلوس کے دوران شہربھرمیں بھگواکپڑوں سے سجایاگیاہے،لیکن بھگوا کپڑوں کی سجاوٹ کے درمیان ایک ایسا بھی واقعہ پیش آیاہے جہاں پرہندوتوا تنظیموں نے شہرکے بس اسٹانڈکے قریب لگے ہوئے اشوک استمبھ جسے قومی نشان کا درجہ حاصل ہے،اس کے اوپر بھگوا پرچم لہرایاگیاہے۔حالانکہ اس تعلق سے پولیس کو بھی پہلے سے علم تھا،لیکن انہوں نے اس بات کو نظراندازکرناہی بہتر سمجھا،لیکن جب سوشیل میڈیا پر اس تعلق سے شدید تنقیدکی گئی توتنقید کو دیکھتے ہوئے پولیس حرکت میں آئی اور بھگوا جھنڈے کو اشوک استمبھ سے اتاردیا۔سوشیل میڈیا پر یہ سوالات اٹھنے لگے تھے کیا قومی نشان ہندوتوا تنظیم کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتا یاپھر ان کیلئے الگ قانون ہے اور دوسروں کیلئے الگ قانون ہے۔قومی نشان سے اوپر کوئی اور پرچم لہرایانہیں جاسکتا،ایسے میں جن لوگوں نے بھی یہ قصورکیاہے اُن کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔بعض لوگوں نے بتایاہے کہ اگر یہی کام کوئی مسلمان کر بیٹھتا تو پولیس اُنہیں حراست میں لے لیتی اور ان کے خلاف ملک مخالف سرگرمی میں ملوث ہونے کامقدمہ عائد کردیتی۔بہرحال اس وقت کرناٹک میں ہندوتنظیموں کی حماقتیں عروج پرہیں اور قانون کی دھجیایاں بڑے زور سے اڑائی جارہی ہیں۔
